فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 301 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 301

٣٠١ ایک بڑی قوم ذرا سے اشارے اور آیندہ کے وعدے پر ساتھ دینے کو طیار اور جان ینے کو موجود مگر اللہ للہ صداقت اور صفائی دیکھو کہ آپ نے کوئی موہوم اور استقبانی دھوکا دینا پسند نہیں کیا۔ورنہ کیا تھا۔ذراسا آسمان کی کنجیوں کے دینے کا لالچ دیدیتے کون مرے کون دیکھے (متی 14 باب ۱۸) اور خیالی تختوں کے وعدے سے دل لبھا لیتے (متی 19 باب ۲۸) ہم روزمرہ کے تجربے سے اہل عالم کی کارروائی سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ کسی شخص کو جب اپنی کار براری مقصود ہوتی ہے تو کیسے کیسے جیلوں اور دھوکوں اور کیسے کیسے بالفعل دل خوش کن وعدوں کو ہتھکنڈا بناتا ہے۔زمانہ گذشتہ کے سلاطین کو جانے دو۔حال کے مہذب یورپین سلطنتوں ہی کو دیکھ لو کہ معاملات ملکی میں کن کن خدا میتوں اور ملمع چالاکیوں سے کام نکالتے ہیں۔یہی قدرتی حالات اور نسبتی واقعات ہیں جنکو ایک با ایمان منصف پڑھکر یقینا کہہ سکتا ہو کہ بیشک یہ رسول صادق و مصدوق ہو۔امانت (۲) عجیب اور فی الحقیقت بے نظیر بات ہو کہ آپ اپنی قوم میں ابتدا ہی میں امین اور مامون کے نام سے پکارے جاتے۔کل قوم آپکی طرف ایسی عزت اور وقعت کی نگاہ سر دیکھتی تھی کہ عرب کے تاریخ دان اُسے پڑھکر اچھنبے میں رہ جاتے ہیں۔اپنی قوم میں ممتاز اور مشار الیہ ہونا اور اپنے ہمعصروں میں صفات فاضلہ کے لحاظ سے یگانہ سمجھا جانا۔خصوصا ایسی قوم میں جسکا پیشہ ہی مثالب شماری اور عیوب گیری ہو۔اور بچپن ہی سے بڑے بڑے بزرگان قوم اور زعیمان ملت میں فوق العاد تعظیم سے یاد کیا جاناطوعا دکر یا اور اس بات کے یقین کر لینے پر اہل انصاف کو مجبور کرتا ہو کہ قدرت خداوندی کا نمونہ اور نشان ایزدی اُنکے اقوال و افعال کے چہرے سے نمودار تھی۔بعثت کا نمونہ ابھی دور ہو۔خدائے جلال کے ساتھ تبلیغ رسالت کرنا ابھی مرحلوں پر ہے ہے۔کوئی نہیں جانتا کہ اس نادر انسان ابن عبد الله ابن عبد المطلب کے کیا مدارج ہوتے ہیں۔J گا