فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 299 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 299

۲۹۹ اليكم رسولا و انزل على كتابا و امرنى ان اكون لكم بشيرا ونذيرا فبلغتكم رسالت ربي و نصیحت لكم فان تقب او امنی ما جئتكم به نهو حظكم في الدنياء الأخرة وان تر دوه عليكم اصبر حتى يحكم الله بيني و بدی کند به سهرت ابن هشام مطبوعه مصر جز و اول صفحه ۱۰ ناظرین غور کیجئے اور سرشتہ انصاف کو ہاتھ سے نہ دیجئے۔کس عظمت و شان کا یہ جواب ہے۔فامنوا بالله ورسوله تفوزوا - (۱) ایک اور واقعہ ستوجب آنحضرت دوسری بار سکتے سے طائف کو جاتے تھے اور آپکے ساتھ مومنین کی جمعیت تھی تو ایک بیک ایک پہاڑی پر سے بنی هوازن نے تیر چلانے شہ وغ کر دیئے۔اہل اسلام جو بفراغ خاطر جارہے تھے۔جیسا ایسے موقعوں پر ہونا ممکن۔مضطرب ہو گئے۔آنحضرت نے بنی ہوازن کو للکار کر فرمايا - أنا النبى لا كذب و انا ابن عبد الا مطلب کی ہی وہ نبی ہوں اس میں جھوٹ نہیں ہو۔میں ابن عبد المطلب ہوا۔اس موقع پر ایک لطیف مضمون جس کا لکھنا شاید ہے وجہ نہ ہو گا۔گوسیاتی مضمون رواں سے نسبت بعید کیوں نہ رکھتا ہو۔لکھا جاتا ہے۔وہ یہ کہ۔" آنحضرت ہر موسم میں وعظ سنانے کو نکلا کرتے تھے۔گھر گھراور قبیلے قبیلے کو پیغاما نچاتے۔مثلاً قبائل بنی عامر بن صعصعہ و محارب و فزارم و غستان و مره و حنیفه وسلیم و نفر وغیرہ کے ہر ایک شریف سے صرف اتنا ہی فرمایا۔لا اكره احدا منكم على شيء بل اريد ان تمنعوا من يوديني حتى ابلغ رسالات رتی۔ربیعہ بن عباد کہتا ہوں۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کو بازار ی المجاز میں دیکھا کہ لوگوں کے پیچھے پیچھے انکے ڈیروں میں جاتے تھے۔جایہ کہتا ہو آ نحضرت لوگوں سے کہتے تھے۔زرقانی شرح مواہب بلدا صفی ۳۷۳) مطل من رجل يحميني إلى قومه فان قريشا منعوني ان ابلغ كلام درتي - اے میں کسی کو تم میں سے کسی بات پر مجور نہیںکرتامیر فقط ان انشاء ہوکہ تم لوگ مجھے ایذا پہنچانے والوں کو روکہ ہو تاکہ میں رب کے پیغام پہنچا دوں اسے کوئی ہر سمجھے اپنی قوم میں ہجائے۔کیونکہ قریش نے مجھے میرے رب کا کلام پہنچا نے سحر روک دیا گیا