فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 292 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 292

۲۹۲ مورخ دانیال پر نظر نہیں کرتے۔دانیال صاف لکھتا ہے کہ ہر مشکلم اور اس کا بر باد کننده اکٹھے فنا ہونگے۔ششم زبور ۱۱۸ اور اشعیا ۲۸ باب۔اور مئی ۲۱ باب رسم کی بشارت وہ پتھر جسے معماروں نے رد کیا۔کونے کا سدا ہوا۔یہ خدا وند سے ہے اور ہماری نظروں میں عجیب - ضرور۔ہاں ضرور محمد عربی کے حق میں ہے۔اسلیئے قدیم زمانے میں تصویری تحریہ کا عام رواج تھا۔محسوسات کے اشکال پر اشتہارات اور کنایات سے گفتگو کرنا مروج تھا۔عیسائی اس امر کو تسلیم کرتے ہیں۔چنانچہ ہمیں اعتبار یہودیوں میں پولا ملانے کی رسم کو مسیح کا جی اُٹھنا خیال کرتے ہیں۔یوشع کا یہ دن سے بارہ پتھر اٹھانا بارہ سواریوں کا اشارہ بتاتے ہیں۔اور مینڈھے کی قربانی کرنا حقیقی بڑے کی قربانی خیال کرتے ہیں۔خصوصا ان پڑھ قوم کے لئے یہ تصویری زبان نہایت ضروری تھی۔اسی واسطے قدیم زمانے سے نبی عرب سے پہلے خاص لگے میں لکھے کے کونے پر ایک من گھڑا پتھر جیسے حجر اسود کہتے ہیں رکھا ہوا تھا۔اور اس کو ہاتھ لگانا اور اسے چھونا اور اس سے ہاتھ ملانا۔حج میں ضروری رسم تھی۔اور اس پتھر کو بدُ الرَّحْمَنِ فِي الأَرضِ کہتے تھے۔یہ پتھر رسول عربی کے شہر میں گویا رسول خدا کی بشارت تصویری زبان میں تھی۔آپ رحمة للعالمین اور مظہر اسم رحمان تھے۔آپ کی بیعت رحمن سے بیعت تھی۔رآن کلام الہی بشارت مجریہ کی رمز سے قرآن کلام الہی بشارت جھریہ کی نسبت عجیب کنائے اور رمز سے اس پیشین گوئی کی خدا کا ہاتھ زمین میں ۱۲ طرف اشارہ کرتا ہے۔ان الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَا بِعُونَ اللهَ (جو لوگ ہاتھ لاتے ہیں تجھ سے وے ہاتھ ملاتے ہیں اللہ سے ۱۷) اور حدیث میں ہے۔دیکھو بخاری اور سلم۔مَثْل وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ كَمِثْلِ قَصْرٍ اَحْسَنَ بُنْيَانُه تُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لِبْنَةٍ