فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 293
۲۹۳ إلى أن قال فكنتُ أنا سَدَ ذَتُ مَوْضِعَ اليِّنَةِ وَفِي رِوَايَةٍ نَانَا تِلكَ اللينة - ترجمہ - یعنی دمیری اور ڈوگر نبیوں کی مثال ایک عظیم البنیان محل کی مثال ہو کہ ایک اینٹ کی جگہ اُس میں چھوڑ دیگئی۔پس میں نے اس اینٹ کی جگہ کو پورا کر دیا۔اور ایک روایت میں ہے کہ میں ہی وہ اینٹ ہوں ) اس آیت اور حدیث سے صاف واضح ہے کہ اس پتھر کی بیعت کو یا رحمن کی بیعت تھی۔ایسے ہی رسول کی بیعت بھی رحمن کی بیعت ہے۔اور رسول خدا ایک اینٹ اسی محل سرا کی ہیں۔جو انبیاء کی ذات بابرکات سے طیار ہوئی۔عرب کے لوگ رحمان کے نام سے اسی واسطے چونک اٹھتے ہیں۔اور جب انپیر اُسْجُدُوا لِلرَّحْمنِ پڑھا جاتا ہے۔تو کہتے ہیں۔انسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ سجدہ کریں۔خیرا کو ۱۲ کے نُفُور (( ترجمہ ) کیا سجدہ کریں ہم جسکو حکم کرے تو اور زیادہ کرتا ہو ں کو بھاگنا) ہاں محمد عربی کے بعد حجر اسود کی بیعت ضروری نہ رہی۔جب اصل آگیا تو مجاز اٹھ گیا۔بیشک اس کونے کے سے والے پتھر کا نتیجہ بہت بڑا ہوا۔اور اسکے چھونے سے انبیا کی کتب سابقہ کی تصدیق ہوئی۔اسلیئے وہ یادگاری کا پتھر بیشک ہمیشہ کے لئے کسی ایسے نشان کا مستحق ہے۔جو آجتک مسلمان اسکی نسبت قائم رکھتے ہیں۔والا یہ پتھر وہی ہے جسکی نسبت عمرو نے کہا۔انكَ حَجَر تَنْفَعُ وَلا تَر تو و ایک پتھر ہے۔تو جو نفع اور نقصان کچھ بھی پہنچا نہیں سکتا۔بن گھڑا پتھر اسلیئے رکھا کہ بت پرستوں کا کام بہنا گھڑے پتھر سے نہیں تھا۔بلکہ گھڑے ہوئے ہے۔اس بات کو مفصل حج کے اسرار میں لکھیں گے۔یہاں اتنا یاد رہے کہ یشوع نے یاروں سے بارہ پتھر لئے اور انکا نشان بنایا۔ابراہیم اور یعقوب جہاں خدا کو دیکھتے وہاں بن گھڑا پتھر اس بات کی یادگار میں کھڑا کردیئے۔یشوع که باب - پیدایش ۳۸ باب ۱۸ - پیدایش ۱۲ باب ۷ - سکتا لا الہ الہ کمال توحید اسے کہتے ہیں کن عاقل اس صادق و اداری کا سامان وی او د دوا کا اس بات کا کو ایم کی رکن