فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 263
۲۶۳ (۲) تحرك بِهِ لِسَانِكَ لتَعْمَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمَعَهُ وَقُرَانَهُ ، فَإِذَ اقْرَ أَنَاهُ فَاتَّبِعْ قرانه ثمَّ اِنَ عَلَيْنَا بَيَانَه - پاره ۲۹ - سوره قيامة - ركوع - - (۳) وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا لَنا عَلى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِثْلِهِ وَادْعُوا شهد الكُم مِّن دُونِ اللَّهِ اِنْ كُنتُم صدقین - پاره ۱ - سوره بقر - رکوع ۳ - ٹوٹے کا منہ میں ڈالنا بادل میں ڈالنا۔اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ کلام اس نبی کے قلب نبوت پر لفظ یا معنی ہیں ترتیب بالتقدم و تا خدا کی طرف سوڈالا گیا ہے۔آیت دوم میں خداوند خدا قرآن کا جامع اور قاری اپنی ذات مقدس کو ٹھہراتا ہے۔اور آنحضرت کو صرف پڑھ سنانے والا مقرر فرماتا ہے۔یہ بڑا بھاری اشارہ پیشین گوئی۔کے امر سوم کی طرف ہے کہ میں اپنا کلام اس کے منہ میں دونگا۔امر چهارم - حجتہ الوداع یعنی آخری حج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب لوگوں کی طرف خطاب کر کے فرمایا۔چنانچہ چند الفاظ اس طویل خطبے کے آخر سے نقل کئے جاتے ہیں۔اللَّهُم هَلْ بَلَغْتُ فَقَالَ النَّاسُ اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللهُمَّ اشْهَدُ (١) اليوم أكملت لكم دينكم واتممتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإسلام دينا- پاره 4 - سُوره مائده - رکوع ۱ - لے نہ چلا تو اس کے پڑھنے پر اپنی زبان کہ شتاب اس کو سیکھ لے۔وہ تو ہمارا ذمہ ہے اس کو سمیٹ رکھنا اور پڑھانا۔پھر جب ہم پڑھنے لگیں تو ساتھ رہ تو اس کے پڑھنے کے پھر مقرر ہمارا ذمہ ہے اسکو کھول بتانا ۱۲ ے اور اگر تم شک میں ہو۔اُس کلام سے جو اُتارا ہم نے اپنے بندے پر تول او ایک سورت اس قسم کی اور بلاؤ جن کو حاضر کرتے ہو اللہ کے سوائے اگر تم سچے ہو ا ر سے اسے میرے پر وردگار کیا میں نے سب کچھ پہنچا دیا۔لوگوں نے کہا ہاں۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے اللہ میرے تو گواہ رہ ۱۲ کے آج میں پورائے چپکا تم کو دین تمہارا اور پورا کیا میں نے تم پر احسان اپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے دین مسلمانی ۱۲ -