فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 180 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 180

١٨٠ ایسے جھاڑوں کو جو کتب الہامیہ میں خصوصیا اور مرزبان میں عموما مستعمل ہوتے ہیں۔حقیقت اور نفس الامری سمجھ لینا سخت غلطی ہے۔اور یہ خوش فہمی، انہیں حضرات نصاری سے ہی مخصوص ہے۔پادری صاحبان ! ہماری مہربانی کا شکریہ ادا کیجئے۔اور اس شکریے میں کلام حق پر جاہلانہ اعتراض کرنے سے باز آئیے ہم آپکی جہل کا پردہ اٹھائے دیتے ہیں اور گپ مقدسہ ہی سے اُس گاؤں کا پتہ لگائے دیتے ہیں۔سکیئے۔وہ گاؤں پر ظلم ہے۔دیکھو تخمیا ۱۳ باب ۱۶۔اور وہاں کے صور کے لوگ بھی سکتے تھے۔جو مچھلی اور ہر طرح کی چیزیں لاکو سبت کے دن یہود او اور یروشلم کے لوگوں کے ہاتھ بیچتے تھے۔تب میں نے یہوداہ کے تشریف لوگوں سے تکرار کر کے کہا کہ یہ کیا برا کام ہے جو تم کرتے ہو کہ سبت کے دن کو مقدس نہیں جانتے ہو۔کیا تمہارے باپ دادوں نے ایسا کام نہیں کیا۔اور ہمارا خدا ہم پر اور اس شہر پر یہ سب آفتیں نہیں لایا۔تب بھی تم سبت کے دن کو پاک نہ مان کے یہ تم اسرائیل پر زیادہ خضب بھڑکاتے ہو۔دیکھو یرمیاہ باب ۳۴- از قبیل باب ۱۲۰ ۴۴۱۲۲۔سبقت کی عدم حفاظت پر عذاب الہی آتا تھا۔زبور ۱۰۵ - ۲۹ - اُن کی مچھلیوں کو مار ڈالا۔یہ گویا نشان قہر الہی ہے۔حز قیل ۴۷ باب ۶ - ۱۲ مچھلیوں کی کثرت ہو گئی۔یہ گو یا فضل الہی کا نشان ہو۔بعض مچھلیوں کی ہلاکت اور کثرت گو یا خدا کے قہر لطف کی علامت ہوا کرتی تھی۔قرآن مجید میں بھی اس واقعے کا ذکر ہے۔جہاں فرمایا ہے۔اذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَعًا - چونکہ یہود کو سبت کی حفاظت کی تاکید شدید تھی۔جیسا خروج ۲۰ باب ۱۹ اور ۳۵ باب سے پایا جاتا ہے۔مگروہ شریر قوم بخلاف حکم ربانی بغاوت اور عصیان کرتی تھی۔اس لئے مضب