فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 179
169 کے حقیر جانور تھے۔کیا یہودی تھے۔کیا و پیج کے معہود فی الذہن اور قابل ملامت بنی اسرائیل نہ تھے۔اب بتا ہیے وہ کتب کس ملک اور کس شہر میں کتے اور ستور اور سانپ نہیں اور سچ مچ مسخ ہی ہوئے ہوئے تھے یا ہو گئے۔خوب سمجھ رکھیے۔جہاں یہ واقعہ عظیم واقع ہوا۔وہاں ہی اور انہیں معنوں میں قرآن والا واقعہ عظیم گذرا۔حقیقی جواب (اصل قصہ قرآن مجید میں یوں ہے) وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنكُمْ في السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَة خَاسِين - سیپاره ۱ - سوره بقر - رکوع - - قل هل أنتكم بسر من ذلِكَ مَتَّوْبَةٌ عِنْدَ اللهِ مَنْ لَعَنَهُ اللهُ وَ غَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِردة والفنان میباره سوره مائده رکوع ۱۳ لعن الذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَد - سیپاره -4 - سوره مائده - رکوع -11 - - - ۶ سبت لغت میں آرام کو کہتے ہیں۔دیکھو قاموس السبت الراحة اور ہفتے کے دن کو بھی کہتے ہیں۔یہودی آرام کے دنوں میں یا یوں کہو سبت کے دن نخدا وند خدا کی نافرمانی کرتے اور اُن کی سرکشی اور بغاوت پر جب باریتعالی کا منصب بھڑکتا تو ذلیل اور خوار ہو جاتے اور انکی حالت اس ذلت اور ادبار کی وجہ سے گویا بندروں اور ستور وں اور گھروں کی سی ہو جاتی راسی مجاز کو قرآن کریم بیان کرتا اور اہل کتاب کو جو زمانہ نبوی میں تھے، اُن کے اسلاف کا عبرت انگیر حال یاد دلاکر نصیحت دیتا ہو مسیح کی لعنت کا ذکر بنی اسرائیل پر جو قرآن کی آیت میں مذکور ہوا ہو۔یاد رکھو۔وہ وہی لعنت ہے جو الزامی جواب میں بیان فرمائی۔اتے اور تم جان چکے ہو ان لوگوں کو جنہوں نے تم میں سے ہفتے کے ان میں زبانی کی ہیں ہم نے کہا تھا کہ ذلیل بندر جاؤں ہی تو کہ میں تمہیں بناؤں جسے خدا کے یہاں سخت سزا ملی وہ جنہیں اللہ نے ملعون کیا اور غضب کیا اسپر اور ان میں سو بندر اور سور بنائے ۱۲۔ملک لعنت کیئے گئے وہ لوگ بنی اسرائیل سے کافر ہوئے داؤد اور عیسی بن مریم کی زبانی۔