فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 181 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 181

IM خداوندی اُن پر نازل ہوتا۔اور وہ ذلیل و مردود ہو جاتے۔اور اس کو سور اور بندر کے استعارے میں مجازا ذکر کیا ہے۔اعتراض۔سورہ ہود تم رکوع ۲۲ ۲۳۰- نوح کا بیٹا طوفان میں ڈوب کر امیرین نے اُس کا نام کنعان بتایا ہے۔اور یہ غلط ہو۔کنعان بعد طوفان پیدا ہوا۔جواب۔الحمدللہ معترض نے بھی خود ہی اس بات کو تسلیم کر لیا ہو کہ قرآن میں کنعان وغیرہ نام کچھ نہیں لکھا ہو البتہ مفسرین نے دو نام لکھے ہیں۔ایک یام بن نوح دیکھو تم البین اور قاموس لغت یوم۔قرآن کو بغور پڑھیئے۔اس میں یہ بھی نہیں لکھا کہ وہ نوح کا بیٹا حقیقی تھا۔بلکہ قرآن کریم میں تو ہو۔ان ابني من اهلی یعنی میرا بیٹا میری بیبی کی طرف سے۔اور قرآن تو صاف کہتا ہے یہ لڑکا تیرے اہل کا بیٹا بھی نہیں۔جہاں کہتا۔إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ - إِنَّهُ عَمَلَ غَيْرُ صَالِحٍ - سیپاره ۱۲ سوره هود رکوع ۴ - اعتراض - سوره انفال ۴ رکوع - خدا محمد یوں پر عذاب نہ کریگا۔جب تک محمد اُن میں ہے۔یہ کذب ہے۔مدینے میں محمد صاحب کی موجودگی میں قحط پڑا۔بدر اور احمد میں محمد صاحب کے ہوتے محمد یوں پر دکھ آیا۔الزامی جواب پھر لوقا کا کہنا کیسے صحیح ہو گیا۔(لوقا ۲۱ باب ۱۸۱۹) بلکہ دے تم میں سے بعضوں کو قتل کرینگے۔پھر لکھتا ہو کہ تمہارے سر کا ایک بال بھی گرایا نہ جاو نیگایا اور یہ الہامی کلام کیسے درست تریگا۔(پیدائش ، ا باب ۸ جسمیں ابراہیم و یعقوب سے وعدہ ہوا کہ کنعان کی زمین میں تیری اولاد کو ابد کے لئے دونگا یہ ہزاروں برس ہو گئے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ملک بنی اسرائیل کے قبضے سے نکلا ہوا ہو۔یہاں ایک آیت میں تو ہو۔کہ قتل کئے جاؤ گے۔اور ایک آیت کہتی ہے کہ تمہارے سرکا ایک بال بھی گرایا نہ جاونگا۔ایک آیت ابد کا وعدہ دیتی ہے اور مشاہدہ اس کے خلاف میں شہادت دیتا ہے۔اگر ان ے وہ نہیں تیرے گھر والوں میں۔اس کے کام ہیں نا کا رہ۔