فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 89 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 89

۸۹ آپ کی صداقت وہ کہ صدیق مرید ہو گئے۔آپکے صحابہ میں ایک بھی نہیں گذر جینے کبھی کسی حدیث کے بیان میں جھوٹ کہا ہے۔اور بڑی صداقت بڑی صداقت نہایت بڑی صداقت میرے وجد ان کے مطابق علم حدیث کی صداقت اور محمد صاحب کی صداقت پر یہ دلیل ہے کہ دو حدیثیں صحیح ایک مرتبے کی اور دو آیتیں اور احادیث صحیحہ اور آیات قرآنید باہم متعارض نہیں۔سچ ہے دروغگو را حافظہ نباشد، اگر آپ جھوٹ بولتے یا آپ کے صحابہ کو جھوٹ کی عادت ہوتی۔ضرور انکی اس بات میں جو رسالت مآب کی طرف نسبت کرتے ہیں۔سخت تعارض ہوتا۔یادر ہے یا ہم متعارض اور موضوع احادیث کی برائی او غلطی اور انکا کذب اس بہت سے ہوتا ہے کہ صحابہ سے نیچے کے راوی کذب بولتے ہیں۔متعارض اور موضوع احادیث ان نیچے کے راویوں سے پیدا ہوتے ہیں۔اگر مرفوع حدیث کا سلسلہ عمدہ وسائط سے صحابہ تک پہنچ جاتے تو پھر تعارض نہیں رہتا۔اگر کہیں کوئی تعارض دکھلائے تو ہم ذمہ دار ہیں۔متحد المعنی احادیث صحیحہ کے الفاظ دیکھو تو متقارب ہیں۔روایات دیکھو تو ایک دوسر کی تصدیق کرتے ہیں۔سچ ہے اور بالکل سچ ہے۔لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلافا كثيرا سیپاره ۵ رکوع - یعنی اگر قرآن یا یہ دین خدا سے نہ ہوتا۔تو البتہ اس میں اختلاف ہوتا اور بہت اختلاف ہوتا۔حلانکہ اس میں ذرا بھی اختلاف نہیں۔تیس برس دکھ اور سکھر کی مختلف اوقات میں باتیں کیں۔مختلف احکام دئے سبحان اللہ پھر سب کے سب باہم موافق - قرآن آیات کو اسی واسطے متشابہات اور منشایہ کہتا ہو کہ ایک آیت دوسے کی مصدق اور مثل ہے۔میں دعوی کرتا ہوں۔کوئی شخص دو حدیث صحیح ایک مرتبے کی میرے سامنے لاوے میں اُسے تطبیق کر کے دکھائے دیتا ہوں۔آپ کو اپنی صداقت پر ایسا یقین تھا کہ کبھی جنبش ظہور میں نہ آئی۔