فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 405
۲۰۵ الگ الگ ایک ایک آیت سے کچھ آیت سے کچھ کا کچھ استدلال کر لیا ہے۔اور یہ بات اس مضمون میں ہم دکھلا دیں گے۔دو قسم کے لوگ آجکل معترض کے خطاب سے سرفراز ہیں۔اصحاب قول یا منقول اصحاب معقول سے ہمارے بر اور وہ لوگ مراد ہیں جو کسی ایک کتاب کے الہامی آسمانی کتابوں سے قائل نہیں۔وہ لوگ تو ہماری کتاب کے موضوع اور منشا سے خارج ہیں۔اب اہل منقول رہ گئے۔از انجملہ اہل کتاب اس وقت ہمارے مخاطب ہیں۔گویا وہ اور ہم آسمانی کتابوں کے ماننے اور ان کتابوں کے طرز عبارات، وطریق نئی ادا مطالب کے اعتقاد کرتے ہیں مسادی ہیں۔اگر ایک فریق کی کتاب میں کوئی بیان یا مجاز یا اصل ایسی ہو جو اصحاب حقول کے نزدیک بظاہر محل اعتراض ہو۔اگو نفس اللہ میں نہ ہو) اور دوسرے فریق کی کتاب میں بھی ڈالیں ہی یا اس کے قریب قریب پایا جائے تو یقین اطمینان دلاتا ہے۔اور عقل گواہی دیتی ہے کہ ہر دو فریق میں سے کوئی ایک دوسرے پر اعتراض کرنے کی حراست نہ کرے گا کیونکہ اعتراض کی زد (اگر وہ اعتراض ہے) دونوں پر پڑتی ہے۔بلکہ دونوں سے اس کے ڈیفنس اور وفاع میں متحد زور لگانے کی درخواست کی جاوے گی۔اب ہم عیسائی قوم کے وتیرے کو اس مادے میں دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ قلمند با حیا قوم کس مسلک پر چلتی ہے۔بہٹ - ضد تعصب بیجا حملہ مشہورانہ زد اچانک یہ سب چیزیں ان کی صورت حال میں نہیں دکھائی دیتی ہیں۔افسوس یا تو یہ لوگ اپنی مستلم الہامی کتابوں کا بالاستقصا تشخیص نہیں کرتے۔یا عمد احمق کا خون کرنے پر کر باندھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔خدا کے لئے کوئی حق کا طالب اس بے قوت دلیر قوم سے پوچھے کہ الہامی کتابوں کا دلیر یا مہم شخصوں کا کچھ پاس بھی ان لوگوں کو ہے۔کس طرح اُن کا دل گواہی دیتا ہے کہ بیا کانہ قرآن مجید کے اس مسئلے کو تیر اعتراض کا نشانہ بنا دیں جو بالسویہ توریت وانجیل میں بھی