فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 404 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 404

بے باک ہیں۔مسئلہ تقدیر نے مسلمانوں کو بے دست و پا کر کے ایسا سست کر رکھا ہے اس قوم کی ترقی کی کبھی امید نہیں ہوسکتی۔جواب معترض کے تصور فہم پر مجھے سخت تعجب آتا ہے۔کیونکہ یہی مسئلہ اسلام میں ترقی کی جڑ تھا۔اور یہی اصل حقیقت میں تمام بلند ہمتیوں کا ریشہ تھا۔جسے معترض صاحب نے مانع ترقی اور سبب تنزل تصور کیا ہے۔بیشک مدتوں سے یہ مسئلہ زیر بحث ہے۔اور ایک عالم نے اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔غالباً عالم کی کل قوموں میں یہ مشترک خیال پایا جاتا ہے حقیقت یہ ہے۔جسوقت انسان با وجود موجودگی اسباب اور ترتب سامان کے امر مطلوب کے حصول سے محروم رہ جاتا ہے۔یا کبھی کسی دوسرے آدمی کو بے ترتیب اسباب کا میاب دیکھتا ہے تو طبعاً اپنی کمزوری کا معترف ہو کر اور اپنے مجھ کوتاہ دوستی سے گھبرا کر فطرتا اس ہمہ قدرت محیط علی الکل مستی کی طرف آنکھ اٹھاتا ہے اور قوائے طبعی اور اسباب معدہ کو اپنے قبضہ قدرت سے خارج اس علیہ العلل مخفی ذات ہی کے قابو میں یقین کرتا ہے۔جب تو لا محالہ کوئی تقدیر - کوئی قسمت کوئی فیٹ یا پریڈ سٹینشن کوئی پرمیشر بھادی وغیرہ اس قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔بیشک ایسے وقت میں اس کو اپنی عبودیت کے ضعفت اور اپنے معبود کی فوق الفوق قدرت کا نہایت کامل اعتقاد ہو جاتا ہے میں سے صفت تذلل وخشوع و خضور اس کے قلب میں پیدا ہو جاتی ہے۔غرض یہ امر طویل البحث ہے۔دوسری قوموں میں اس کی نسبت کچھ ہی خیال کیوں نہ ہو گریچ تو یوں ہے کہ اسلام کی تقدیر کا مضمون کم ہی سمجھتے ہیں۔اور اکثر جو سمجھے ہیں تو غلط سمجھے ہیں اس عدم فہم کا بھاری باعث قرآن مجید کی آیات پر بحالت مجموعی طورنہ کرنا ہے۔BO