فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 383 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 383

۳۸۳ 66 اس آیت کا افتتاح میں پڑھنا خوب آشکار کرتا ہے کہ اہل اسلام کا باطنی ریح اور قلبی توجہ کدھر ہے۔کعبہ حقیقی اور قبلہ تحقیقی انہوں نے کس چیز کو ٹھہرا رکھا ہے۔ایک انگریز مورخ لکھتا ہو کہ فضائل اسلام میں سے ایک یہ بھی فضیلت ہے کہ اسلام کے معاہدہ ہاتھ سے نہیں بنائے جاتے اور خدا کی خدائی میں ہر مقام پر اس کی عبادت ہو سکتی ہے انمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ - سیپاره ۱ سوره بقر رکوع ۱۴- جس مقام پر خدا کی عبادت کی بجائے وہی مقام مقدس ہو اور اسی کو مسجدسمجھ لیجئے مسلمان چاہیے۔سفر میں ہو چاہے حضر میں۔جب نماز کا وقت آتا ہے۔چند مختصر اور پُر جوش فقرات میں اپنے خالق سے اپنے دل کا عرض حال کہ لیتا ہے۔اسکی نماز اتنی طولانی نہیں ہوتی کہ اُس کا جی گھبرا جائے اور نماز میں جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا مضمون یہ ہوتا ہو کہ اپنے عجز و نیا کساری کا اظہار اور خدا وند عالم کی عظمت اور بلال کا اقرار اور اسکے فضل و رحمت پر تو کل۔عیسائی کیا جا نہیں کہ اسلام میں عبادت خدا کا مزا کیسا کوٹ کوٹ کے بھرا ہے۔انسان کی نجات قیامت کے روز کیونکر ہوگی۔آیا صرف اعمال حس کسی شفیع کی شفاعت ہے یا اعمال حسنہ اور شفاعت شفیع کے اجتماع سے۔جواب۔مخلوق کی نجات کا مدار ایسا تنگ اور محدود نہیں ہو پادریوں نے بیان کیا کیا خدائی ارادے محدود ہیں۔کیا اس بیحد ہستی کے کام کسی مخلوق کے خیال اور وہم پر موقوف ہیں۔بندگان خدا کی نجات قیامت کے روز محض باری تعالیٰ کے فضل و کریم سے ہو گی اور صرف اُس کے رحم اور غریب نوازی سے ہم نجات پائیں گے۔اگر اعمال وغیرہ سے نجات ہے تو فضل کچھ بھی نہیں۔ناظرین یقین کرو کہ فضل و کرم خدا وندی ہے نجات ہے۔اور یہی فضل و کریم اسلام میں نجات کا باعث ہر دیکھو سور کا یخدان۔اس میں اہل جنت کے انعامات کا ذکر ہوتے ہوتے بتایا ہے کہ جنت میں جانے والے ے جس طرف ته مسته کرد وہاں ہی متوجہ ہے اللہ ہا لے تنقید الکلام ترنیمه لائف آف محمد از سید امیر علی ۱۲