فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 382 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 382

PAY بر آن تولوا و مو حلو قِيلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرة المليكة والكتب والنبيين وَإِلَى الْمَالَ عَلَى مُحَتِهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَى والمساكين وابن السبيل والسائلين وفي الرقاب واقام الصلوة والى الركوة والْمُؤْتُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّبِرِينَ فِي الْبَاسَاءِ وَالضَّرَّاء وَحِيْنَ البامن أو اليك الذينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ، سياره ۲ - سوره بقى ركوع - ان آیات نے صاف بتا دیا کہ سمت قبلہ کی جانب توجہ کرنا مقصود بالذات اور اہم نہیں ہے۔اصلی اور بدی نیکیاں اور آسمانی خزانے میں جمع ہونے والی خوبیاں یہی ہیں جو ان آیات میں مذکور ہوئیں۔ایک اور لطیف بات قابل غور ہے کہ آغاز نماز میں جبکہ مسلمان رو بقیلہ کھڑا ہوتا ہے یہ آیت پڑھتا ہے۔التي وجهتُ وَجْدِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ حَنِيْنًا زَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، سیپاره ، - سوره انعام - ركوج - اور یہ آیت ان صلوق ومسن ونیای وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ وَلا شَرِيكَ لَمْ وَ بِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، سیپاره - سوره انعام - مرکوع ۲۰ ے نیکی یہی نہیںکہ منہ کہ اپنے مشرق کی طرف ، مغرب کی۔ولیکن نیکی وہ ہے جو کوئی ایمان لاوے اللہ پر اور پچھلے دن پر اور فرشتوں پر اور کتابوں پر اور نبیوں پر اور دیوہ سے مال اسکی محبت پر تانے والوں کو اور یتیموں کو اور مختا جال کو اور رام مگر مسافر کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں پھڑانے میں اور کھڑی رکھنے نماز اور دیا کہر سے زکوۃ اور پورا کرنے والے اپنے اقرار کو جب پورا کریں اور شہر نے والے سختی میں اور تکلیف میں اور وقت ایا رائی کے وہی لوگ ہیں جو سچے ہوئے اور وہی چاؤ میں آئے " سے نہیں نے اپنا منہ کیا اس کی طرف جسں نے بنائے آسمان اور زمین ایک طرف کا ہو کر اور میں نہیں شریک کرنے والا ۱۲ سے میری نماز اور قربانی اور میرا جینا اور مرنا اللہ کی طرف ہے کوئی نہیں اس کا شریک اور یہی مجھ کوحکم ہوا اور میں سب سے پہلے حکم بردار ہوں ۱۲ -