فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 329
۳۳۱۳۹ کیونکہ قدرت نے کوئی نیچرل خوبی سبزی اور نضارت اُسے مرحمت نہیں کی تھی۔جو دنیوی فاتحوں حملہ آوروں کی تحریک کا باعث ہوتی۔خود اہل ملک ایسے افلاس اور بے سرو سامانی کی گہری نیند میں پاؤں پھیلائے پڑے تھے۔کہ برسوں سے کروٹ تک نہ بدلی تھی۔اور ملکوں کی تسخیر کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا تو کیسا۔ایسی حالت میں قوی روحانی اور ملکات فاضلہ انسانی کی شگفتگی اور ترقی معلوم - یادر ہے کہ فتوحات اور حملہ آوری اور ایک ملک کو دو سے ملک سے جنگ و کارزار ہمیشہ سے ابتداء تہذیب و سیو بازیشن کے پھیلنے کا ذریعہ ہوتے رہے ہیں۔مقدس لڑائیوں کی وجہ سے یورپ میں تہذیب کی ریشہ دوانی کرنا ایک ایسا امر ہے ، جس سے مورخان مغربی انکار نہیں کر سکتے۔تمدنی و منزلى حالت۔ہزاروں قبیلے پھر انکے ہزاروں شعبے اور انکی ہزاروں چھوٹی چھوٹی شاخیں۔ایک کی ایک سے لاگ۔اتفاق و اختلاط کیسا کہ اگر کوئی سال کوئی مہینہ کوئی دن باہمی خونریزی سے خالی گزر جائے تو بس غنیمت۔حکما جو انسان کو مدنی الطبع کہتے ہیں اور اس مسئلے کے اثبات میں کتابیں کی کتابیں لکھ گئے ہیں۔اور آجکل کی دنیا اسکی شاہد ہے۔کیا عرب کی اسوقت کی سوشل حالت ہی اس مسئلے کو باطل نہیں کئے دیتی تھی۔درندہ بصورت انسان ایک تصویری زبان کا استعارہ ہے۔مگر شیر عرب حقیقت میں اسکے مصداق تھے۔اخلاقی حالت تو مکی و تمدنی حالت کی بیٹی ہو۔اسی کی شائستگی و ترقی پر اسکی فلاح و صلاح کا مدار ہو۔اچھا صاف صاف سُن لیجئے۔بت پرستی اور تو ہمات باطلہ کی حکومت ان دنوں کل عالمہ پر محیط تو تھی ہی۔لیکن ملک معرب پر اُس کا خاص سایہ عاطفت تھا۔اجرا مہ علوی سسلی میں سے کوئی ایسا نہ تھا جب سے سادہ لوح عرب نے سیتی دلی ارادت کا رشتہ نہ ہوڑا تھا۔سخت گھنونی نفرت انگیز اشیائے مادی اُنکے پکے