فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 328
ظاہر و باہر ہے۔یہودا اسکیر یوطی جسکو مسیح نے معجزات و کرامت والا بنایا اور جس کے واسطے بہشت میں تخت بھی تیار ہوا کیسا پھرا کہ آشنا ہی نہ تھا۔پطرس جیسے آسمان کی کنجیاں مرحمت ہوئیں کہ وہی پھر شیطان بن گیا ایم اپنے صادق معصوم استاد کو ملعون کہ اٹھا۔اور بخوف جان سب حقوق آشنائی کو طاق پر دھر دیا یہ دسبحان اللہ ، یہ تو حواریوں کا حال ہے۔جنہوں نے مسیح کی لائف و تعلیم لکھنے کا بیڑا اٹھایا۔کیا خوب کیوں نہ قابل اعتبار ہے رہوں۔اس صادق اول الم نبی عربی کیانی ایرای تعلیم کا اس سے مقابلہ کرو کہ کیونکر اُسکے حواری (خلفائے اربعہ) آخری دم تک ہزاروں مصائب اور حوادث کے سامنے سینہ سپر کئے ہوئے اپنے اُستاد کے عشق و محبت میں ثابت قدم رہے۔اب آئیے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئیاں سنیئے۔انصاف سے سنیے۔نئی عرب کی پیشینگوئیاں اور ل سکے کہ ہم پیگیوں کا این شروع کریں کسی قدر کی عرب کی حالت کھانا ضرور ہو تاکہ ناظرین با انصاف کو اسکی صداقت و حقیقت کے اعتقاد کرنے میں تامل نہ رہے۔حالت ملی عرب کی ایک بے آب و گیاہ ریگستان۔ایک کس مپرس کونے میں پڑا ہوا وحشت ناک غولوں کا مسکن سیلویلیشن کے علمبرداروں نے کبھی اس طرف رخ نہیں کیا تھا۔مرقس ۲ باب 14 سے منی ۲۶ باب ۱۴ سه متنی ۱۶ باب ۱۸ سکه هستی و باب ۲۳ شه منی ۲۶ باب ، د ۲ -