فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 315
۳۱۵ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جا دیگی۔اور ایک قوم کو جو اسکے پھل لادے دی جاوے گی۔یادر ہے بنی اسرائیل صرف روحانی بادشاہ نہ تھے۔بلکہ روحانی اور جسمانی۔عیسائی منصفو! یہ پتھر کہی ہے جسکو دانیال نے دیکھا اور وہ پھر پہاڑ بن گیا دانیال ۲ باب ۳۴- جو اسپر گرا چور ہوا اور نبی وہ گرا اسے میں ڈالا جہاد پر اعتراض نہ کرنا۔قدیم زمانے میں تصویری زبان کا بڑا رواج تھا۔اسی خیال پر عیسائیوں نے موسوی رسومات کو صرف نشان قرار دیا ہے۔مثلاً کہتے ہیں۔قربانی توریت مسیح کی قربانی کا نمونہ تھی۔گو جانور خاموش جان دینا ہے۔اور مسیح نے ایلی ایلی میکارتھے جہان دی۔ظاہری طہارتیں اصلی طہارت کا نمونہ تھیں۔پولا بلانا مسیح کا جی اٹھنا تھا۔یوشع نے بارہ پتھر اٹھوائے اور بقول عیسائیوں کے وہ بارہ سواریوں کا گویا نشان تھا۔یوشع ہم باب 4 - وغیرہ وغیرہ۔اب سوچو - حجر اسود کے میں کونے کا پتھر تھا۔اور اس اور اسلام سے پہلے سالہا سال کا موجود لوگ اسے چومتے اور اس کے ساتھ ہاتھ ملاتے تھے۔گویا یہ پتھر کونے کا سرا کتے میں تصویری زبان میں کتب مقدسہ کا یہ فقرہ تھا۔وہ پتھر جیسے معماروں نے رد کیا۔وہی کرنے کے سرے کا پتھر ہوا۔عرب اُمتی محض تھے۔اور صاحب کتاب نہ تھے۔اُن کے لئے بجائے کتاب یہی پتھر گو یا کلام الہی تھا۔اس پتھر کو عرب یمین الرحمان کہتے تھے۔اب جو اصل آگیا اور اس کی منزہ کہ کتاب میں اِنَّ الذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللہ کا فرمان اترا۔عرب چونک اٹھے اور کہنے لالو اند لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُورا سیپاره ۱۹ سوره فرقان رکوع ۵ سجده ا اخبار ۲۳ باب ۱۰ - سه اقرنتی ۱۵ باب ۲۰-۱۲ س جو لوگ ہاتھ ملاتے ہیں تجھ سے۔وہ ہاتھ ملاتے ہیں اللہ سے ۱۲ - یہ آیت سیپارہ ۲۶ - سورۂ فتح۔رکوع میں ہے۔لہ رحمن کیا ہے۔کیا سجدہ کرنے لگیں ہم میں کو تو فرما دیگا۔اور بڑھتا ہو ان کا بھاگنا ہو۔