فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 316 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 316

اسکے تشریف لاتے یروشلم کی باغبانی بنی اسرائیل سے چھن گئی جو اسیر کرا چور ہوا۔جسپر وہ گرا پس گیا۔یہ پتھر کونے کا سر نہ تو مسیح ہیں کیونکہ مسیح نے اس کے ظہور کے لئے اپنے بعد کا زمانہ بتایا۔دیکھو لوقا ۲۰ باب ۱۶ - منتی ۲۱ باب ۴۳ - دانیال ۲ باب ۳۴ - بشارت ال قال عيسى ابن مريم يعني إِسْرَائِيلَ إِلَى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لمَا بَيْنَ يَدَى مِنَ التَّوْل ةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ تَحْدِى إِسْمَةَ أَحْمَدُ اس بشارت کو یوحنا نے اپنی انجیل میں لکھا ہے۔دیکھو یوحنا م ا باب ۱۵ - ۱۷ میرے کلموں پر عمل کرو۔میں اپنے باپ سے درخواست کرونگا۔اور وہ تمہیں دوسرا تسلی دینے والا بخشی گا۔کہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے۔قرآن نے کہا ہر مسیح نے احمد کی بشارت دی اور یہ بشارت نبی عرب نے عیسائیوں کے سامنے پڑھ سنائی اور کسی کو انکار کرنے کا موقعہ نہ ملا۔زمانہ دراز کے بعد جب قرآنی محاورات سے بے خبری پھیلی پادریوں نے کہدیا۔یہ بشارت انجیل میں نہیں۔بیشتر زمانے میں اناجیل کے باب اور درس نہ تھے۔والا پرانے اہل اسلام نشان دیتے۔فارقلیط اور پر کلٹیاس یا پر کلٹیوں پر بڑی بحثیں ہوئی ہیں۔میں کہتا ہوں یوحنا ۱۴ باب ۱۵ میں ہو دوسرا نسلی دینے والا۔اور عرب کی کتب لغت میں حمد کے مادے کو دیکھ جاؤ۔العود احمد دوسرے آنے والے کو احمد کہتے ہیں۔اور یہ بات بطور مثل عرب میں مشہور و معروف تھی۔یہ بشارت قرآنیہ یوحنا م ا باب دا کے بالکل مطابق ہو۔کیونکہ راہ اور جب کہا جینے مریم کے بیٹے نے اسے بنی اسرائیل میں بھیجا آیا ہوں اللہ کا تمہاری طرف سچا کرنا اس کو بو مجھ سے آگے ہو۔تو راہ اور خوشخبری سناتا ایک رسول کی جو آویگا مجھے پیچھے اس کا نام ہے احمد ۱ یہ آیت سیپارہ ۲۸۔سورہ صنف - رکوع میں ہے ؟