فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 314
سم اسمر من علم إلا اتباع اللي وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا بَلْ تَرفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ وان مِنْ أَهْلِ الكتب إلا لِيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شیدا - سیپاره ۶- سوره نساء - رکوع ۲ - - - - بات دور چلی گئی۔ان باغبانوں نے اپنے آخری نبی راستباز صلح کار کو اپنے زعم میں قتل کیا۔مار ڈالا۔بنی اسرائیل کے سارے نبی خدا کے پلوٹھے تھے۔اور سیح آخری پہلوٹھے۔اب باغ اوروں کے سپرد ہوا۔باغ یروشلم تھا۔پہلے اسکے باغبان بنی اسرائیل میں سے رہے۔ان کی بے ایمانی سے اب وہ بالغ بنی اسمعیل کے سپرد ہوا۔ماجوج در از گوش کہتے ہیں۔وہ آخری آچکے اب محمد کون ہے۔عقل والو سوچو۔انجیل میں لکھا ہے۔مالک باغ باغ اور وں کو سپرد کریگا۔آخر کہاں آپکے۔معاملہ ختم نہیں۔کبھی پہلے بنی اسمعیل اس کے مالک ہوئے۔اب تیرہ سو برس سے مالک ہیں۔یہود اور عیسائیوں کے لئے عہدہ باغبانی نہیں رہا۔باغ کا نام بھی بدل گیا۔یروشلم سے بیت المقدس بنا۔متی اس نئی قوم کے حق میں کہتا ہو۔وہ موسم پر پھل دینگے۔منتی ۲۱ باب ۳۱۔اور عرب میں حج کے ایام کو موسم کہتے ہیں۔پھر لوقا ۲۰ باب ۱۶۔انہوں (بنی اسرائیل ) نے یہ سُن کے کہا۔ایسا نہ ہو۔تب اس نے انکی طرف دیکھ کے کہا۔پھر وہ کیا ہے جو لکھا ہے کہ وہ پتھر جسے راجگیروں نے رد کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔ہر ایک جو اس پتھر پر گرے۔چور ہوگا۔اور جس پر وہ گرے اُسے پیس ڈالیگا۔اور مستی ۲۱ باب ۴۳ - اسلیئے میں تمہیں کہتا ہوں اور ہے بقیت یا شک میں میں اور ان لوگوں کو اس کا کچھ بھی یقینی علم نہیں ہے مگر گمان کی پیروی۔اور نہ مارا اس کو از راه یقین بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اُٹھا لیا ۱۳ - ے گا ایمان لایا تو اس کے پہلے اس کے اور ان ایام کے انگارو پرانے گوارا ے بنی اسرائیل کو خدا نے مصر سے لا کہ یروشلم میں آباد کیا۔اور ان میں انبیاء ورسل بھیجے۔یسعیاہ باب -