فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 312 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 312

۳۱۲ قتل کر دیگا۔اور باغ اور وں کو سونپے گا۔تفسیر: مرقس - ۲ باب 4- اب اُس کا ایک ہی بیٹا تھا۔جو اُس کا پیارا تھا۔بیٹے کا لفظ یہاں بمعنی صلح کار کے لیا ہے۔بیٹے کا لفظ کتب مقدسہ میں وسیع معانی کے ساتھ مستعمل ہے۔بیٹے کے حقیقی معنے باپ کے نطفے اور اس کی جورو کے رحم سے پیدا ہونیوالے کے ہیں۔عیسائیوں کے نزدیک بھی یہ معنی صحیح نہیں۔رہے مجازی معنی بیٹے کے۔وسیع ہیں۔ہم نے حسب حال صلح کار لئے منتی ۵ باب ۹ - مبارک دے جو صلح کار ہیں۔کیونکہ خدا کے فرزند کہلائیں گے۔اور سیح صلح کا شاہزادہ ہے۔بیسعیاہ۔4 باب 4 - حب بیان مرقس ایک ہی بیٹے رہ گئے۔بنی اسرائیل میں کامل صلح مسیح میں تھی۔اور اسی سے بنی اسرائیل کے گھرانے کی نبوت و رسالت کا خاتمہ ہوگیا۔خدا کے فرزند کا محاورہ یکھنا ہو تو کھو صبحت الویت بیح۔وہاں ثابت کیا ہے۔حسب محاورہ کتب مقدسہ فرشتے خدا کے بیٹے ہیں۔ایوب باب - اور انبیاء اُسکے بیٹے - ایوب ۳۸ باب ۷- اور بد کار خُدا بیٹے۔یسعیاہ ۳۰ باب ۱۔سب فرزند - یوحنا ا ا باب ۲۵ -- اب مار ڈالا کی تحقیق سُن لو۔یہاں سخت ایذا کو مار ڈالنا کہا ہے۔کیونکہ مکاشفات ۵ باب 4 میں ہے۔گویا ذبح کیا۔یہودی کہتے ہیں۔ہم نے مسیح کو قتل کر ڈالا قتل کے تو عیسائی بھی منکر ہیں۔پر قرآن کا مسیح کے قصے میں یہ کہنا۔مَا قَتَلُوهُ بالکل سے ہوا۔اور بعض یہود کہتے ہیں۔ہم نے صلیب دی۔اور یہ بھی غلط ہے۔اس زمانے کی سولی یہ نہ تھی جیسے اسوقت ہوتی ہے۔بلکہ آدمی کو کسی لکڑی پر ٹانگ دیتے تھے۔اور مصلوب بھو کا پر یا سا ایذائیں پاتا مدت کے بعد مر جاتا تھا۔اگر جلدی اتارتے تو ہڈیاں توڑ ڈالتے حضرت شیخ جلد اُتارے گئے مسیح کی ہڈیاں توڑی نہیں گئیں۔پس قرآن کا یہ کہنا وَمَا صَلَبُودُهُ بالکل سچ ہو گیا۔عربی میں مصلوب اُسی کو کہتے ہیں۔جسکی پیٹھ کی بڑی توڑی جائے۔دیکھو قاموس اسی