فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 313 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 313

۳۱۳ لغت صلب۔اور سی ہڈی توڑنے سے محفوظ رہے۔دیکھو یوحنا ۱۸ باب ۳۳- بات یہ ہے حاکم مسیح کا حامی تھا۔دیکھو اس نے ہاتھ دھوئے اور کہا۔میں اس راستباز کے خون سے پاک ہوں۔متی ۲۷ باب ۲۴- حاکم کی عورت حامی اور مددگار تھی خصم کو کہتی ہو مجھے اس راستباز سے کام نہ ہو۔متی ۲۷ باب ۱۹- صوبے دار اور یسوع کے نگہبان بھی حامی اور وہمی تھے۔اور پھر عیسائی۔متی ۲۷ باب ۵۴ - یوسف نام ارمینہ کا دولتمند۔سائیڈرم مجلس شاہی کا ممبر بھی حامی منتی ۲۷ - باب ۷ ۵ - اور ست اگر منتظر بادشاہت تھا۔مرقس ۱۵ باب ۴۳ - لوقا ۲۳ باب ۵۰ - یہود کے خوف سے خفیہ رہتا۔یوحنا 14 باب ۳۸۔اس شخص نے اٹکانے کے چند گھنٹے کے بعد جب اندھیرا ہوا۔بادشاہ سے کہا۔یسوع مرگیا ہے۔لاش مجھے مرحمت ہو۔پلاطس حاکم نے تعجب کیا۔کہ ایسا جلد کیونکر مرا۔اور یوسف اور صوبیدار معتقد گواہ ہیں اور یہود یہ مہلت کے بکھیڑے میں موجود ہی ہیں۔قبر میں رکھا۔اور مٹی کی مہر کی اور کوئی محافظ اسوقت نہ تھا۔خیر خواہ اپنے خاکسار کو نکال لے گئے۔بیشان سی مردہ یہودیوں سے جی اُٹھے۔ابدی زندگی میں جلال پا گئے۔ایت وار کو حفاظت شروع ہوئی نہیں صاف آشکار ہو۔وہ بے گناہ بچ گئے۔اسی واسطے قرآن کا کہنا۔وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کا بالکل راست ہے۔یا انجیلی محققوں کے طور پر کہتے ہیں آپ کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں۔ویسے ہی مر گئے۔بے ایمان یہودی اسی بات پر یقین رکھتے۔اور کہے گئے ہم نے کو مار ڈالا۔و بیماری می که وَقَوْلُهُمْ إِنَّا قَتَلْنَا المسيح عيسى ابن مريعَ رَسُولَ اللهِ وَمَا نَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ ولكن تبه لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَى شَاكٍ مِنْهُ، مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ الے اور کہنا یہودیوں کا کہ ہم لوگوں نے عیسی مسیح رسول اللہ میم کے بیٹے کو قتل کی اور ان لوگوں نے نہ مارا ایک اور نه سولی پر چڑھایا اسکولیکن قتل اور سول لینے کا شبہ ہوا ان کو۔اور ہر آئنہ جن لوگوں نے اختلاف کیا ہو اس میں وہ اسکے