فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 297 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 297

496 کوشش میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔ایک اور واقعے پر نظر کرو۔ایک روز آپ مسجد کے حجرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔" علی اور اس سے تھوڑی دور ایک بڑا بھاری گروہ صنادید قریش کا تھا۔ان میں سے عتبہ بن کی بیعہ نے دیدہ شخص آپ کا بڑا بھاری دشمن ہوا ہے) آپ کے قریب آکر عرض کیا۔کہ ا پسر برادر۔تو صاحب اوصاف حمیدہ اور عالی خاندان ہے۔مگر اب تو نے ہماری میں تخم نفاق بودیا ہے۔اور ہمارے قبائل میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔تو ہمارے دیوتاؤں اور دیلبیوں کی مذمت کرتا ہے اور ہمارے آبا و اجداد کو کافر اور بت پرست بناتا ہے۔اب ہم ایک بات تجھ سے کہتے ہیں خوب سوچگر جواب دے کہ اس کا قبول کرنا تیرے حق میں بہتر ہوگا۔آنحضرت نے فرمایا کہ اسے ابو الولید کیا کہتا ہے۔میں تیری بات کو خُوب سُنونگا۔عُتبہ نے کہا اے پسر بر اور اگر تو اس ادعائے رسالت سے مال و دولت حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہم تجھ کو اتنی دولت جمع کر دینگے کہ ہم میں سے کسی کے پاس نہیں۔اور اگر تجھ کو عزت و وقار حاصل کرنا منظور ہے۔تو ہم تجھ کو اپنا سردار اور رئیس بنا ئینگے۔اور کوئی بات ہے تیرے نہ کر ینگے۔اگر تجھ کو بادشاہت منظور ہے۔تو ہم تجھ کو اپنا بادشاہ بنائیں گے۔اور اگر جنون تجھ پر غالب آگیا ہے تو ہم اطبا کو بلا ئینگے اور ان کو مال د یکہ تیرا علاج کرائینگے۔جب عتبہ کی یہ تقریر ختم ہوئی۔تو آپ نے پوچھا۔ا ابا اولید تیرا کلام تمام ہوا۔اس نے کہا ہاں یا محمدی آپ نے فرمایا اب میری سُن۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - حَمَّدٌ تَنزِيلَ مِنَ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ ، كتب فَصَلَتُ آيَاتُهُ قُرْآنَا عَرَبِيًّا لِقَوْمٍ تَعْلَمُونَ بَشِيرًا وَ نَاذِ يُرَاء فَأَعْرَضَ أَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يسْمَعُونَ، وَقَالُوا فَتُوبُنَا فِي النَّةٍ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ وَفِي أَذَانِنَا وَ قُر اے رحمن و رحیم کی جان ہے اترا ہوا۔یہ کتا ہے، کی آیتیں کھلی کھلی میں قرآن عربی جاننے والے لوگوں کی واسطے بشیر نذیر ہے پر اکثر لوگوں نے منہ پھیرا اور دوسنتے ہی نہیں اور کہتے ہیں ہمارے دلوں پر خلاف پڑھے ہوئے ہیں تیری اس بات کی طرف سے