فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 298 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 298

۲۹۸ مِن بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَاب فَاعْمَالُ إِنَّنَا عَمِلُونَ ، قُل إنما أنا بشر مثلكم يُوحَى لى انَّمَا الهُكُمُ الهُ وَاحِدُ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ ، وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكوة وَهُمْ بِالآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ ، إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَهُمْ أَجْرُ غَيْرُ مَمْنُونٍ - سیپاره ۲۴ سوره حم السجده (ع) یادر ہے کہ یہ سب ماجرے ایسے وقت ہوئے۔جب آپ نے ابتداء پیغام الہی پہنچا نا شروع کیا ہے۔مشرکین کی درخواست کا مضمون فقرة فقرة اور آنحضرت کا جو ملكوت السموات کے خارق تھے۔اس نظیف درخواست پر دست رد مار نا نصاری کے بڑے بڑے مخالفانہ اعتراضوں کا حقیقی اور واقعی جواب ہے جسکی آنکھیں دیکھنے کی ہوں دیکھے، مگر مجھے نہایت مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کے فصیح اور پاکیزہ جواب کو بھی لکھیں۔جو آیات قرآنی کے پڑھنے سے قبل آپ نے دیا ہے۔وهو هذا۔فقَالَ لَهُ رَسُول الله صلى الله عليه وسلّم مابي ما تقولون ماجئت يما جئت کد به اطلب اموالكم ولا الشرف فيكم ولا المُلك عليكم ولكن الله بعثنى بقیر حا جدھر تو ہمیں بلاتا ہے اور ہمارے کان ہو نہیں ہورہے ہیں اور تیرے اور ہمارے درمیان اوٹ ہے تو اپنے کام میں لگارہ ہم اپنے کام میں تو کہر سے رائے محمد ؟ میں ایک تمہیں سا بشر ہوں میری طرف خدا کا پیغام آتا ہے کہ تمہارا معبود واحد ہے اسی کی راہ پر سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور اُن سے بخشش مانگو، پلاکت ان مشرکین کیو اسطے مجھے زکوۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں۔بانک ایماندار را اور نیکو کاروں کے لئے غیر منقطع امیر ہے۔ا آپ نے فرمایا جو کچھ تم نے کہا اس میں سے مجھے کچھ بھی نہیں۔میں تمہارے پاس دین تھی اسلئے نہیں لایا کہ تم سے مال مانگوں اور نہ میں تمیر کچھ بڑائی اور بادشاہت چاہتا ہوں۔لیکن مجھے اللہ نے تمہارے پاس بھیجا رسول کرینگے۔اور مجھ پر ایک کتاب اتاری ہے اور مجھے امر کیا ہے کہ میں تمہیں بشارت اور ڈرسنا دوں۔پس میں نے اپنے رب کے پیغام تمہیں پہنچا دیئے اور تمہیں خیر خواہی کی باتیں سنا دیں جو کچھ میں لایا ہوں اگر تم نے مان لیا تو دنیا اور آخرت میں تمہاری سعادت ہے۔اور اگر تم نے اُسے رد کیا تو لیکن صبر کرونگا جبتک تمہارے اور میرے درمیان فیصلہ کر نے اللہ ۱۴