فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 296
کل دنیا مخالف و موافق پر آشکار ہے کہ احکام الہی اور اپنی رسالت کی تبلیغ میں جو ثبات و استقلال جو جلادت و جلال آپ نے ظاہر کیا ہے۔تاریخ عالم اسکی نظیر سے ساکت ہے۔اور جس پہلوانی اور شجاعت سے اُن بڑے بڑے مواضعات کا جو - عرب کی تند خو غریدہ جو گرم مزاج وحشی قوم نے آپ کی رسالت کی راہ میں ڈالے۔آپ نے مقابلہ کیا۔حقیقت میں آپ کی صداقت کی بڑی دلیل ہے۔قطع نظر اُن بڑے بڑے واقعات کے جن سے کتب سیر مشحون ہیں۔ایک دو باتوں پر غور کرنے کے لئے ناظرین کی توجہ کی درخواست کیجاتی ہے کیونکہ تطویل مضامین ہمارا مقصود نہیں ہو۔اس خطر ناک فطرت انسانی کو سخت امتحان میں ڈالنے والے ایک غیر صادق اور جعلساز آدمی کو جگہ سے ہلا دینے والے واقعے پر دھیان کرو۔اور سوجو اور ذری واردات فطرت انسانی کی تصویر اپنی آنکھوں کے سامنے کھینی جسوقت کے کے بڑے بڑے سرداروں اور رئیسوں نے متفق ہو کر نفرت کے بیچا اور گارڈین ابو طال سے درخواست کی کہ وہ آنحضرت کے اس نئے دین کی وعظ سم رو کرے یا اسکی حفاظت سے دستکش ہوجاوے۔اور ابوطالب نے بھی جسے نہ چاہا کہ اپنی قوم کو اس شہرت اور غیظ کی حالت میں دیکھے حضرت سے ان کی درخواست منظور کر لینے کوکہا۔تو کیسی آپ کی صداقت ظاہر ہوئی۔اور کیسی آپ کی پہلوانی ثابت ہوئی۔خوب کھل گیا کہ وہ پہنچا اولو العزم نہیں جھیل اور بناوٹ سے بالکل مترا ہے۔اسلئے کہ نبی کا نوشتہ را ہونا ضرور تھا۔ہاں آپ نے جواب کیا دیا۔۔اے پچا اگر یہ لوگ آفتاب کو میرے داہنے ہاتھ میں اور مہتاب کو میرے بائیں ہاتھ میں رکھ دیں۔اور مجھے اس کام کے ترک کرنے کو کہیں یقینا یقینا میں بانہ نہ نہ ہونگا۔جب تک خدا کا دین ظاہر نہ ہو۔یا میں اسی