فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 287
PAL جاہل تک جس چاہو پوچھو۔اُونٹ کا نام لیتے ہی عرب کا اشارہ سمجھ جاویگا۔اور جب رسول خدا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کئے میں داخل ہوئے۔تو اونٹ پر سوار تھے اور بلاشبہ محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائے واحد کی پرستش قائم کی۔حضرت عیسے کے بعد جو لوگوں نے حضرت پینے کو خدا کا بیٹا مانا اور تین خدا قائم کر کے پھر تین سے ایک خدا بنایا تھا۔اور خدائے واحد کی پرستش میں خلل آگیا تھا۔اُسکو مٹایا۔پھر نئے سر سے خدا کی سچی پرستش قائم کی اور یوں فرمایا۔ب اهل الكتاب تعالوا إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِلا نَعْبُدَ إلا الله - سیپاره ۳ - سورة ال عمران - رکوع ، - خطبات الاحمديه - ساتویں بشارت دانیالیہ تجربہ وہ پتھر جسے معماروں نے رد کیا۔وہی کونے کا سرا ہوا۔یہ خدا وند سے ہے اور ہماری رو نظروں میں عجیب۔اسلئے میں تم سے کہتا ہوں خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی۔اور ایک قوم کو جو اسکے پھل لاوے دیجائے گی۔جو اس پتھر پر گرے گا۔چورچور ہو جائے گا۔پر جسپر وہ گرے گا۔اُسے پیس ڈالے گا۔متی ۲۱ باب ۴۲ تا ۴۴ - یہ بشارت خاص نبی عرب محمد مصطفے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔کسی دوسے نبی پر ہرگز ہرگز صادق نہیں آتی۔اول کچھ شک نہیں کہ یہاں معمار بنی اسرائیل ہیں جنکو اسی ۲۱ باب کی ۳۳ آیت میں باغبان کہا۔اور کچھ شبہ نہیں کہ بنی اسرائیل نے بنی اسمعیل کو اسحاق سے لیکر آجتک علی العموم رد کیا۔اور آنحضرت کے زمانے سے آجتک یہود و عیسائی آنحضرت کو رو کیا کرتے ہیں۔الا خدا کے فضل سے وہی نبی عرب کونے کے سرے کے پتھر ہوئے۔اور بنی اسرائیل کی نظروں میں یہ بات مجیب ہوئی۔لے اسے کتاب والو آؤ ایک سیدھی بات پر ہمارے تمہارے درمیان کی کہ بندگی نہ کریں ہم مگر اللہ کی ۱۲ -