فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 288
۲۸۸ دو کہ بنی اسرائیل سے۔ہاں جنہوں نے مسیح کو مارا اور پٹیا۔اُن سے بادشاہت لی گئی۔اور دوسری قوم بنی اسمعیل کو دی گئی۔یہ بادشاہت چاہے رومانی لو اور چاہیے ام جسمانی لو۔دونوں طرح نبی عرب پر صادق ہے۔پاک زمین کی سلطنت اور اس باغ کی باغبانی جسکے بدلے میں بنی اسرائیل موقوف ہوئے۔جیسا مسیح فرماتے ہیں مہنتی ۲۱- باب ۳۳ - آجتک اسی کے قبضے میں ہے۔خادم الحرمین اُسکے خدام اور اس جگہ کے بادشاہ ہیں۔سوم جو اسلامیوں پر گرا چور ہوا۔اور جسپر وہ گرے وہ پیس گیا۔پہلی بات دیکھتی ہوں تو غزوہ بدر و غیر دیکھ لو۔اور دوسری بات کے واسطے بابل وغیرہ بلاد کی سیر کر لو۔وہ زنا کار بابل وہ کفرستان کن لوگوں کی طفیل پس گیا۔چہارم۔یسعیا نبی اس پیشین گوئی اور بشارت کی ابتدا میں کہتا ہو۔دیکھو یہ یا ۲۰ با سہا۔حکم پر حکم حکم بر حکم قانون پر قانون قانون پر قانون اونا جا تا۔تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں۔تاکہ وسے چلے جاویں۔اور پچھاڑ ہی کرے اور شکست کھاویں۔اور دام میں پھنسیں اور گرفتار ہو وہیں۔اور یہ باتیں صاف صاف قرآن پر صادق آتی ہیں۔جو کہ سکتے اور کھجے اور مدینے میں اُترا۔اور جس کی مخالفت میں بنو نضیر بنی اسرائیل کا گر وہ جلا وطن ہوا۔اور جسکے مناد پر بنو قریظہ جیسے شہر پر مقتول ہوئے۔پنجم۔اس بشارت کی مفصل تصدیق دانیال کی کتاب سے ہوتی ہے اور صاف صاف اس میں غور و فکر کرنے سے اس بشارت کا مصداق (ضد اب اُمی و آبی ظاہر ہوتا ہو، اور قربان ہوں ان پر ماں باپ ہمار سے ۱۲ وقت ظہور صافت، طور پر کھل جاتا ہے۔اسلئے میں دانیال کی کتاب کا ضرور ہی عمدہ اور خلاصہ مع تفسیر ناظرین کو سناتا ہوں۔دانیال نے خواب میں ایک مورت دیکھی جس کا سر سونے کا۔بازو چاندی کے رانیں تانے کی ٹانگیں لوہے کی۔اور دس انگلیاں لوہے اور مٹی کی ہیں۔۲ باب ۲۲ - ۳۵ - دانیال (4) سونے کا سر بابل کا بادشاہ ہے۔۲۔باب ۳۷۔دانیال۔