فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 286
۲۸۶ متی نے لکھی تمھیں۔مگر اس بشارت کا ذکر حضرت مستی نے نہیں کیا۔اگر یہ بشارت حضرت پیسے سے متعلق ہوتی۔تو ضرور حضرت متی اُس کا ذکر کرتے۔دوسے یہ کہ حمد کے مادے سے حضرت عیسلے کے نام پر کسی طرح اشارہ نہیں ہوسکتا۔بلکہ یہ اشارہ خاص اسی شخص کے نام کا ہے۔جس کا نام اسی مادے سے مشتق ہوا ہے۔اور اسی لئے یہ بشارت حضرت عیسی کی نہیں ہے۔بلکہ اُس کی بشارت ہے جس کی نسبت حضرت عیسے نے بشارت دی تھی۔که يَأْتِي مِنْ بَعْدِئ اسمه احمد گاڈ فری ہینگٹن نے بھی اپنی کتاب میں باستدلال قول ریورنڈ بارک ہرسٹ صاحب کے لکھا ہو۔کہ یہ بشارت حضرت پیسے کی نہیں ہو سکتی۔بلکہ اُس شخص کی ہے جس کے آنے کی بشارت خود حضرت عیسے نے دی تھی۔آدینگا میرے بعد اسکا نام احمد ہے ) خطبات احمدیہ - چھٹی بشارت اور ایک جوڑی سواروں کی دیکھی۔ایک سوار گدھے کا۔اور ایک سوار اُونٹ کا۔او خوب متوجہ ہوا۔کتاب اشعیا نبی - ۲۱- باب ۷ - اس آیت میں حضرت اشعیا نبی نے دو شخصوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔جو خدا کی سچی پرستش کو از سر نو قائیم کرینگے۔اُن میں سے ایک کو گدھے کی سواری کے نشان سے بتلایا ہے۔اور اس میں کچھ شبہ نہیں کہ اس سے حضرت عیسی کی طرف اشارہ ہے۔کیونکہ جناب محمد وح گدھے پر سوار ہو کر یروشلم بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے۔اور بلاشبہ حضرت عیسلے نے خدا کی سچی پرستش قائم کی اور یہودیوں نے جو مکاری اور دغابازی سے شریعت کے صرف ظاہری احکام کی ریا کاری سے پابندی اختیار کی تھی۔اور ولی نیکی اور روحانی پاکیزگی کو بالکل چھوڑ دیا تھا۔اس کو بتایا۔اور کچی پرستش خدا کی قائم کی۔دوسے شخص کو اونٹ کی سواری کے نشان سے بتلایا۔اور اس میں کچھ شبہ نہیں کہ اس سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ ہے جو عرب کی خاص سواری ہے بچے سے بوڑھے تک اور عالم سے