فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 206 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 206

سے قیامت کا ہونا بتلایا مسیح نے قیام کے وجود پر گواہی دی۔مگر وہ گواہی بے دلیل قانون قدرت کے صرف ایک نقلی بات کے اشارے سے تھی۔بخلاف دلائل قرآن۔عیسائی خاکسا میسیج کی الوہیت کے قائل تھے۔اُن کو رنگا رنگ یقین دلائل سمو قائل کیا دیکھو مبحث ابطال الوہیت مسیح مختصر یہ کہ سیخ کوجو تم ان اللہ کہتے ہو کس معنی کرکے۔اگر ابن کے حقیقی معنی لیتے ہو تو ان معنوں میں بیٹے کا باپ کے نطفے اور آپکی جور و بیٹے کی ماں کے رحم سے ہونا ضرور ہے۔اور مریم کا خدا کی جو رو ہونا تمہارے مذہب میں اور گل عقلاء کی نقل میں مسلم نہیں۔اسپر قرآن نے کہا۔الى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَهُ اور صاحبہ یعنی جورو کا قد کے لئے ہونا تمہارے ہاں ستم ہو پر بیٹا نے حقیقی کسے جگا و اگر او معنی ہیں۔توان مانی نہیں ک ی ن ک ا ت وعلق اور علم کامل محیط گل اشیا لازم ہے۔اور مسیح میں دونوں مفقود ہیں۔دیکھو نفی صفت خلق میں متنی ۲۰ باب ۲۳ - اور تھی صفت علم میں - مرقس ۱۳ باب ۳۲ -متی ۲۴ باب ۳۶ - اعمال - باب ے۔یہ دلیل قرآن میں یوں ہے۔ان يكون لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَهُ صَاحِبَةً وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ ٣ شَيْءٍ عَلِيمٌ - سیپاره - - رکوع -14 - سُوره انعام - کفارے کے ابطال میں جس نے عیسائیوں کو ارتکاب معاصی میں بیباک کر رکھا تھا اور یقین دلایا تھا کہ میسج سب کے بدلے ملعون ہوئے۔گلتی - با سال : لا تَزِرُ وَازِرَة و کہہ کر مٹایا۔غرض رسول خدا صلعمہ کے دعوئی مفسر ہونے پر اہل کتاب نے چند سوال کیئے۔ایک روح کے متعلق کیونکہ قدم روح کا ایک جہان قائل تھا۔اور اس اعتقاد نے رُوح کے لے کیونکر ہوا اسکے لئے لڑکیا حالانکہ اسکی عورت نہیں ہے۔سہلے کہاں سے اسے لڑکا ہوگا۔حالانکہ اسکی عورت نہیں ہے اور ہر چیز کو پیدا کیا اور وہی ہر چیز کا جاننے والا ہے "۔