فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 207
۲۰۷ غیر مخلوق مانے میں پھنسا رکھا تھا۔اسی واسطے یہود نے اور اُن کے ساتھ اور لوگوں نے پوچھا روح کی نسبت فرمائیے۔جیسے قرآن میں ہو۔يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ۔پھر اُن کے جواب میں حکم ہوا۔قل الروح من امر رتی تو کہہ کہ روح میرے رب کے حکم سے بنی ہو۔یعنی مخلوق ہے قدیم نہیں۔اور لوگوںکو جتایا کہ اگر روح پہلے سے موجود ہوتی تو اسے علم بھی ہوتا۔لاکن دیکھتے ہو۔ا الله أَخْرَجَكُم مِنْ بَطُونِ أُمَّهَاتِكُمُ لا تَعْلَمُونَ شَيْئًا۔اسی طرح چند لوگوں نے علمائے یہود سے دانیال نبی کی مشکل کتاب میں سرہ باب کی تفسیر کو چھی۔دیکھو قرآن سیپارہ ۶ سورة کہف - رکوع ۲- يَسْتَلُونَكَ عَن ذِى القرنين - تجھ سے پوچھتے ہیں ذوالقرنین کو۔یہ وہی دوسیلنگ کا مینڈھا ہے جسے دانیال نے خواب میں دیکھا۔دیکھو دانیال ۸ باب ۴۔نبی عرب نے بتایا۔دو سینگ والا مینڈھا جسے دانیال نے خواب میں دیکھا۔وہ ایک بڑا بادشاہ ہے۔جس کا نسلط ایک خاص زمین کی مشرق اور مغرب میں ہوا۔پادری صاحبان اس کا نام کی قباد بھی مشہور ہے جو مشرق اور مغرب میدید اور ایلام لینے ایران و فارس کا ہے اسے پانچ سو پینتیس سال پہلے میں مادی قوم کا بادشاہ تھا۔کسی خاص ملک کی مشرق اور مغرب پر سورج کا نکلنا اور ڈوبنا بنا دینا مقدس کتب عہد عتیق و جدید کا خاص محاورہ ہے۔جیسے دانیال کی کتاب ۴ باب ۲۲ میں۔اور ذکریا، باب میں لکھا ہے بند کر تیری سلطنت زمین کی انتہا تک پہنچے۔اور میں اپنے لوگوں کو سورج کے نکلنے کے ملک اور اس کے غروب ہونے کے مُلک سے چھوڑ الاؤ نگا منصف عیسائیو! دیکھو ذکریا کی الہامی کتاب میں صاف لکھا ہے۔سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کے ملک سے۔اور قرآن میں اعلیٰ درجے کی راستی سے کہا ہے۔ذوالقرنین کو ایسا معلوم ہوا کہ سورج دلدل میں ڈوبتا ہے۔ے اوراللہ نے نکالا تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے تم کچھ نہ جانتے تھے ۱۲۔٠١٢٠