فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 185
JAQ علیہ وسلم کے فرمان ہدایت نشان کو طاق پر دھر دیا۔اور اس خدا داد قوت اور عطیے سے جسے حرام کہتے ہیں کام نہ لیا۔اسلئے وہ چند لمحہ کی اور جلد تدارک پانے والی تکلیف نہیں پہنچی۔چونکہ وہ لوگ حکم رسول سے غافل ہو گئے۔پس یقینا رسول اللہ اُن میں اور وہ رسول اللہ میں اس وقت نہ تھے۔گو تھوڑی دیر بعد پھر نصرت الہی نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ایسا ہی جو صدمہ اہل اسلام کو غزوہ اُحد میں پہنچا۔اس کا سبب بھی رسول الله علم کی نافرمانی ہوا۔کہ عبداللہ بن جبیر سے ہمراہیوں نے بخلاف حکم آنحضرت صلعم کے اُونچے ٹیلے کو جس پر ثابت رہنے کیلئے آپ کا تاکیدی حکم تھا چھوڑ دیا۔اسلئے وہ صدمہ انہیں پہنچا۔جس کا تدارک فضل ایزدی نے بہت جلد کر لیا ان سب کی تفصیل مضمون جہاد میں دیکھو، پس یہاں بھی کیسی صاف بات ہو کہ اس مصیبت کے نزول پر محمد رسول الله صحم اُن میں نہ تھے کہ عدول حکمی سے یہ سزا ان پر آئی۔شاید کسی کے دل میں یہ وسوسہ گذرے کہ خود آنحضرت پر بھی تکلیف مصیبت آئی۔سو یا د رکھنا چاہئے کہ قوم کا خیر خواہ اور ان کا دلی ہما ر و ہادی و مصلح ہر حال میں اپنی قوم کا شریک نیک و بد رہتا ہے۔بعض اوقات میں اس لزوم کی وجہ سے ضرور ہو کہ ان لوگوں کے مصائب و آلام سے اُسے بھی حسب قانون قدرت بہرہ ملے۔تاکہ ہر حال میں ان کا ہمدرد اور ستچار فیق و انہیں ثابت ہو۔پس یو نہی ہوا کہ جب اس معرکے میں بعض کوتاہ اندیش آدمیوں کی غلطی کے سب سے مسلمانوں پر ایڈا آئی۔بچے ہمدرد رسول مقبول نے اُن سے الگ ہونا گوارا نہیں فرمایا۔بلکہ اُن کی شمولیت میں اس دُکھ سے حصہ لیا۔اس لئے پاک وجود باجود کے طفیل پھر رحمت الہی اُن لوگوں کی محمد و معاون نہوئی۔عیسائی مذاق پر ثبوت سن لو۔مسیح کامل راستباز تھے۔الا ملعون قوم کی خاطر ملعون ہوئے۔گناہ اٹھائے۔سزا سہی۔موسے و ہارون پر اپنی قوم کی خاطر ملعون ہوئے۔گناہ اُٹھائے۔سزا سہی موسی و ہارون پر اپنی قوم کی شمولیت کی وجہ کتاب آیا اور کنان نہ پہنچے اور قوم کو چھوڑ خود ہی نہ ہوئے۔ازاله وسوسه