فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 184 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 184

۱۸۴ اب مناسب معلوم ہوتا ہو کہ ہم ان معنوں کا ثبوت جو ہمنے اس فقر سے جب تک محمد محمدیوں میں ہوا میں لفظ " میں ہوا سے اُن کے کلام مقدس پر قرار واقعی عمل کرنے کے لئے ہیں۔انجیل سے دیں۔سنو۔انجیل یوحناء ا باب ۱۹ مسیح فرماتے ہیں۔جس طرح تو نے مجھے دُنیا میں بھیجا۔میں نے بھی اُنہیں دُنیا میں بھیجا۔اُن کے لئے بھی ہو ان (سواری) کے کلام سے مجھے پر ایمان لا دینگے۔عرض کرتا ہوں تاکہ وے سب ایک ہوں۔جیسا کہ تو اے باپ مجھ میں اور میں تجھہ میں وہ بھی تم میں ایک ہوں۔یوحنا کا - - خط ۲ باب ۲۴- اسی واسطے جو م نے شروع سے سنا ہو۔وہی تم میں بسے۔رومیوں کو ۲ باب ۵۔ایسے ہی ہم جو بہت سے ہیں مسیح میں ہو کے ایک بدن ہو ہیں۔اخط یوحنا ۳ باب ۲۴۔اور جو اسکے حکموں پر عمل کرتا ہے۔یہ اسمیں اور وہ آسمیں رہتا ہے۔اخط یوحنام باب ۱۲- اگر ہم ایک دوسے سے محبت کریں تو ہم خدا میں رہتے ہیں۔اب دیکھو ان آیات سے صاف حمیان ہو کہ کسی کا کسی میں ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ پہلا شخص دوسرے کا تابع فرمان ہو۔اور اُسکے نصائح پر پورا پورا کار بند ہو۔اسی کے مطابق آیت قرآنی کے معنی لے لو۔اب ہم بتاتے ہیں کہ جہاں جہاں کسی محمدی کو کوئی ایذا او تکلیف پہنچی ہو بیشک اُسوقت محمد رسول اللہ اُن میں نہ تھے۔یعنی وہ لوگ نصیحت نبوی کو بھول گئے کو سنو۔غزوہ حنین میں مسلمانوں کو تکلیف پہنچی۔اس کا سبب خود ہی قرآن نے بتایا ہے۔ن اعْجَبتَ كُم كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُم شَيْئًا وَ ضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَت ثُمَّ وَليَتُو مد برین - سیپاره ۱۰- سوره توبه - مرکوع ۲ - اہل اسلام اس غروے میں اپنی کثرت و جمعیت پر بھول گئے۔اور رسول اللہ صلی اللہ الے جب تمہاری کثرت تمہیں گھمنڈ میں لائے ہیں تمہارے گروہ تمہارے کسی کام نہ آئے پھر تم بیٹھ دیکر بھاگ نکلے