فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 183
١٨٣ اُن جاہلوں نے از راہ کمال جرات وہ کہا۔جس کا مضمون آیت سوم میں مذکور ہو۔باری تعالیٰ نے فرمایا۔کہ جب تک تو اے محمد ان لوگوں میں ہو یعنی سرزمین مکہ اور اس کے اہالی کے درمیان) تب تکہ ان پر عذاب نہیں آنے کا۔اور بیشک یہ وعید الہی یہ پیشینگوئی ایک برس بعد ہجرت کے جب آپ کتے کو چھوڑ دینے چلے گئے۔پوری ہوئی۔کیسی صاف اور واضح بات تھی حضرت ز کی طبیعت معترض کہاں لے گئے۔افسوس ان لوگوں کے قصور فہم یا عمدا دیدہ انصاف کے بند کر لینے کی کیا اور کہانتک شکایت کی جائے گو حقیقتہ یہ بے معنی اور پوچ اعتراضات ہرگز لائق التفات نہ تھے مگر ہم نے اس پر بھی محض بایں نیست کہ شاید اب کبھی کوئی دل تو رحیق سے منور ہو جائے۔اس مخاطبے کو گوارا کیا ہے۔اسی مضمون کو قرآن کی پیشینگوئیوں میں دیکھو۔ایک اور بات خیال میں آئی جس کا لکھنا شاید بچسپی سے خالی نہ ہوگا۔سنو ہم اسی بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بلحاظ اصل مطلب معترض کے معنی صحیح ہیں۔گو سورہ انفال کی آیت کا مدعا یہ نہ ہو کہ جب تک محمد محمدیوں میں ہے۔ان پر عذاب نہیں آویگا بیشک یہ درست اور نہایت درست بات ہے اور واقعی امر ہے کہ جب تک محمد محمدیوں میں ہو۔انپر کوئی دُکھ کوئی وبال کوئی عذاب آ نہیں سکتا محمد محمدیوں میں ہو۔اس کے یہ معنی کہ محمد رسُول اللہ کی اصلی اور واقعی تعلیم پر انکا ٹھیک ٹھیک عمل ہو۔اور سہ مو اسکے پاک احکام سے وہ تجاوز و انحراف نہ کریں۔پس کیا ہی صحیح بات ہو کہ جب تک محمد محمدیوں میں ہو۔انپر کوئی عذاب نہ آئیگا۔ہم دھوئی کرتے ہیں اور بڑی دلیری سے دعوی کرتے ہیں کہ اہل اسلام پر کوئی عذاب کبھی بھی نہیں آیا۔جب تک محمد رسول اللہ صلعمہ اُن میں رہے۔بایں معنی کہ اُن کے کلام مقدس پر اہل اسلامہ ٹھیک ٹھیک معمل رہا۔تاریخ صاف شہادت دیتی ہے کہ جب اہل اسلام نے اپنے پیارے ہادی کے نصائح سے انحراف کیا۔جب ہی اُن پر ادبار آیا۔