فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 182 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 182

۱۸۲ آیات کی توفیق و تطبیق میں کوئی تاویل کی جاتی ہے۔اور ضرور کرنی پڑتی ہے۔تو قرآن کے محل مطلب میں اُسے کیوں بھول جانا چاہیئے۔جواب حقیقی۔میں نے سورہ انفال کو غور و تا رتبہ سے پڑھا ہی۔جو بات اعتراض میں بیان ہوئی ہو و ہرگز ہرگز سورہ انفال تو کیا تمام قرآن بھرمیں کہیں نہیں ہو۔مگر بعد غور کے معلوم ہوا کہ ایک آیت ہے جس کا مقدم و مؤخر کاٹ کر اور اصلی مطلب نہ سمجھ کر یہ اعتراض پیدا ہوا ہو۔لہذا ہم تمام آیات متعلقہ، حل معانی کو لکھ کر اصل مطلب بتاتے ہیں۔و إِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُ واليُثْبِتُوكَ اَوْ يَقْتُلُوكَ أَو جُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمُدُ اللهَ وَاللهُ خَيْرُ المَاكِرِينَ وَإِذَا تُتلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هذا رات هذا الما أسَاطِيرُ الأَوَّلِينَ - وَإِذْ قَالُوا اللهُمَّ إِن كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقِّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ وَ أُتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّ بَهُمْ وَأَنتَ فِيهم - سیپاره ۹ - سوره انفال - رکوع ۴ - اب اس میں یہ آخری آیت زیر بحث ہے۔یہ محض ناسمجھی سے تیز فہم معترض نے اعتراض جایا ہے۔کہیں امید کرتا ہوں کہان تمام آیات کے ترجمہ لفظی سے ناظرین کو اصل مدعا کا پتہ لگ گیا ہوگا۔مگر مزید توضیح کے لئے مختصراً کچھ لکھے دیتا ہوں۔اس اخیر آیت میں لبعد بھم میں جو ھم کی ضمیر ہے اس کا مرجع وہی (الذین کفروا) اصل مطلب یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے بہ تنذیر قرآن کفار مکہ کو عذاب الہی سے ڈرایا کہ قرآن کی تکذیب و انکار پر ضرور ضرو ر غضب الہی اُن پر نازل ہو گا۔اس پر ہے۔لے اور جب فریب بنانے کے کافر کہ تجھ کو بٹھا دیں یا مار ڈالیں یا نکال دیں۔اور وہ بھی فریب کرتے تھے اور اللہ بھی فریب کرتا تھا۔اوراللہ کا فریب سے بہتر ہے۔اور جب کوئی پڑھے ان پر ہماری آیتیں کہیں ہم سن چکے ہم چاہیں تو کر لیں ایسا یہ کچھ نہیں مگر سوال ہیں پہلوں کے۔اور سب کہنے لگے کہ یا الہ اگریہی دین حق ہے تیرے پاس تو ہم پر ہے یا پھر آسمان سے بال ہم پر دکھ کی مار اور اللہ ہرگز نہ عذاب کر تا ان کو جب تک تو تھا ان میں۔