فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 178
عادل خدا کی ذات اس سے منزہ ہے۔اب اسی فطرت کے اقرار کو اسی ربوبیت الہی کے جیلی معترف فطرت کو الہامی زبان ربانی کلام اس طرز عبادت میں بیان فرماتا ہو۔اور اس دقیق فطرت کے راز کو اس طرح پر انسان کو سمجھاتا ہو کہ انسان بدو فطرت میں میری ربوبیت کا اقرار کر چکا ہے۔یعنی الوہیت ایز دی کا اعتراف انسان کا امر جبلی اور فطری ہے۔اور اُس کی ترکیب و ہیئت ہی اس امر پر شاہد عادل کافی ہے۔قرآن کا یہ عجیب معجز طریق ہو کہ وہ ایسے باریک مسائل کو اس پنج میں ادا کرتا ہو کہ اُس سے عالم و جاہل یکساں مستفید ہو سکتے ہیں۔عیسائی ظاہر بین الفاظ پرست ان اصرار کو کیا سمجھیں۔وہ تو کتب الہامیہ کے خصوصیات اور اُن کے طرق ادامی مطالب سے آشنا ہی نہیں ہوئے۔خواہ مخواہ ہر ایک حقیقت پر اعتراض جمادینے کا بیڑہ اُٹھا رکھا ہے۔گو وہ انا جیل ہی میں کیوں نہ ہو۔اعتراض - سوره بقره ۱۸ رکوع - اعراف ۲۱ رکوع ۱۶۷- مائده رکوش ۶۵ میں ہو یہود بندر بن گئے۔کب کسی ملک میں کسی شہرمیں یہ عظیم واقعہ ہوا۔ان لوگوں کے قرب جوار والوں سے کس نے لگا تھا۔الزامی جواب لیجئے صاحب گھبرائیے نہیں خدا کے فضل سو ہم بتائے دیتی ہیں۔متی ۱۵ باب ۲۶- ایک عورت نے مسیح سے روٹی مانگی ( آپ کیس لطافت اور نرمی اور حسن خلق سے اُسے جواب دیتے ہیں لڑکوں کی روٹی لے لینی اور راتوں کو ڈالنی خوب نہیں " متی ، باب 4- جو پاک ہے گیتوں کو مت دو۔اور اپنے موتی سوروں کے آگے مت پھینکو۔متی ۲۳ باب ۳۳۔اسے سانپو۔اسے سانپوں کے بچہ تم بہنم کے عذاب سے کیونکر بچوگے۔پادری صاحبان ! مہربانی کر کے آپ بھی ذری تکلیف اُٹھائیے اور حقیقت بینی کو مد نظر رکھ کر آپ ہی بتائیے۔یہ کتنے اور ستور اور سانپ کون تھے۔یہی عرفی اور مشاہدہ