فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 177 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 177

یہاں ایک اور امر بھی اظہار کے قابل ہو کہ معترض نے آیت کے ترجمے میں متن ظہور ہم کا ترجمہ اس کی پیٹھ سے کیا ہو۔اور یہ مجھے نہیں ہے۔ہمہ پہلے اصل آیت کو لکھتے ہیں اور پھر صحیح ترجمہ نقل کرتے ہیں۔واذا خَنَا رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ أَشْهَدَ هُمْ عَلَى أأَنْفُسِهِمُ اَلَسْتُ بِرَتِكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدُنا - بیپاره ۹ - سوره اعراف - رکوع ۲۲ - یادر ہے کہ من ظهورِ جم میں ظہور کا لفظ زبان عرب میں زائد آیا کرتا ہو دیکھو قامون مِنْ بيْنَ أَظْهُرِ هِمُ - آی وَسَطِهِمْ - بین کا لفظ وسط کے معنی دیتا ہو۔اور اظہر کا لفظ زائد ہوں معنی اس فقرے کے اُن کے بیچ یا ان میں۔حدیث میں بھی یہ محاورہ آیا ہو- رہ آیا ہو۔دیکھو مشکوة باب الایمان صفحه 6 - كُنتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا۔آپ تھے ہم میں۔محاورہ عرب دیکھو۔ما افصحكَ وَمَا خَرَجْتَ منْ أظهرنا - تو کیسا فصیح ہو۔اور تو ہم سے الگ نہیں نکلا۔اور عرب بولتے ہیں۔کان بينشد عن ظهر قلبہ۔یعنے وہ دل سے یا از بر شعر پڑھتا تھا۔و ظہر کا لفظ زائد ہے۔حقیقی جواب۔اصل مطلب آیت کا یہ ہو کہ عادل ریمی قدوس خدا نے تمام بنی آدم میں اُن کی بدو فطرت میں ایک قوت ایمانیہ اور نور فراست ودیعت رکھا ہے جو ہمیشہ وجود اہلی اور اس کی ربوبیت کا اقرار یاد دلاتا رہتا ہے یا اقلا یوں کہو کہ اگر مثلاً کسی عارض کے باعث غافل بھی ہو سجا دے۔تو بھی چونکہ اصل فطرت میں وہ قوت مجبور کی گئی ہے کسی بیرونی محرک کے سبب سے حرکت میں آجاتی ہے۔ہاں اگر کسی بے ایمان کے اندر کسی باعث سے وہ قوت بالکل مرگئی ہو۔اور وہ کم بخت اتہاہ کنویں میں جا پڑا ہو۔اور شیطان کا فرزند بنگر آسمانی دفتر سے اُس نے اپنا نام کٹوا لیا ہو تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔اور جب بھی تیرے رب نے آدمیوں سے اُنہیں کے درمیان سے اُن کی اول دا اور انہیں اپر گواہ ٹھہرایا کہ یں تمہارا رب نہیں ہوں انہوں نے کہا ہاں ہم گواہ ہوئے ۱۲۔