فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 175
مطالب میں بغور نگاہ کرنی اشد ضروری معلوم ہوتی ہے۔اب انصاف سے دیکھو آیات قرآنی کا مقصود کس قدر صاف ہے۔مطلب یہ ہے کہ بہشت اور دوزخ میں نیا آسمان اور نئی زمین ہوگی۔اور یہ زمین اپنی موجودہ حالت پر نہ رہیگی۔چنانچہ قرآن فرماتا ہو۔يون تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ : DAWN NNNELGAKAWAT ENGLANGUAGELOKALAGAN - سیپاره ۱۳ - سوره ابراهیم رکوع » - جس آیت کا سوال میں اشارہ ہے اُس کے الفاظ یہ ہیں۔ما حمرى السموات والأرضی جب تک (وہ) آسمان و زمیں قائم ہیں۔ینے مومن بہشت میں اور دوزخی دوزخ میں رہیں گے جب تک آسمان و زمیں قائم ہیں عربی زبان میں الف لام خصو صیت کا نشان ہے۔اُردو فارسی میں معرفے اور نگرے میں امتیاز کرنے کے لئے کوئی نشان نہیں۔پس السموات اور الارض میں سموات اور ارض کے اول میں الف لام تخصیص کا اظہار کرتا ہے۔اور نقص و اس تخصیص سے وہ خاص آسمان وزمین مراد ہیں۔جو اس عالیہ آخرت کے مناسب اور اس مقام کی صورت طبعی کے اقتہ کے موافق ہونگے۔غرض بہشت اور دوزخ میں خاص آسمان اور زمینیں ہونگی اور موجودہ آسمانان و زمین اپنی حال سے بدل جائینگے۔نافہم عیسائی اپنی کتب مسلمہ سے بیخبر اسی عدم امتیاز کے باعث ایسی فاحش غلطیوں میں پڑتے اور بیابان ضلالت میں ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔انا جیل کا بھی یہی منشاء ہے جہاں لکھا ہے اور کہ تم خدا کے اس دن کے آنی کے منتظر ہو۔جس میں آسمان جیل کو گداز ہو جا وینگے۔پر ہم نئے آسمان اور نئی زمین کی جن میں راستبازی ہے اُسکے وعدے کے موافق انتظاری کرتے ہیں۔(۲ پطرس ۳ باب) كُلِّ شَيْءٍ هَالِكُ إِلَّا وَجْهَهُ - سیپاره ۲۰ - سوره قصص - رکوع ۹ - بستی بدن بدل ڈالی جاودگی زمین سودا نے (اس موجودہ زمین کے اور آسمان اور اللہ واحد زبردسہ کے رو برو پیش ہونگے ان کی ذات کے سوا فنا ہونے والی یہ ہے ۱۲۔