فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 169
149 اس اپنی میں ابو طالب گویا تمام روسائے مکہ کے روبرو اس آیت کی تصدیق کرتا۔ہے۔جو اعتراض میں مذکور ہے۔اور کہتا ہے۔اسے لگنے والو اہل اطراف نے تو اُسکی یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو مان لیا ہے۔اور تعلیم الہی اور کی مہربانی کا اطراف میں آنا یعنی پھیلنا گویا خدا کا اطراف میں آنا ہے۔حاصل کلام آیت یہ ہوا کہ کفار کی تعداد کم ہوتی چلی جاتی ہے اور مسلمان دن بدن بڑھتے پہلے جاتے ہیں۔پادری صاحبان با ملاحظہ فرمائیے اب وہ زمین درکہ گھٹے گھٹے بالکل فنا ہی ہوگئی۔اور ایک نئی زمین جس پر توحید ہی تو حید ہو۔اس کے عوض نکل آئی۔خوب سوپیے۔یہی اطراف کا کم کرنا اور اُن کا سمیٹنا ہے اور یہی مقصود آیت قرآنی کا ہے۔افسوس دل دانا اور شہر جینا کہاں جو ان انہی اداروں کو دیکھے اور سمجھے۔اب آئیے کتب انا جبیل کو ٹو لیئے۔کہ اُن میں زمین کے کناروں" کا لفظ محاورہ پایا جاتا ہے یا نہیں۔آئیے ہم نکالے دیتے ہیں۔یسعیاہ ۲۱ باب ۵ " زمین کے کنارے ہراساں ہوتے و سے نزدیک آتے اور حاضر ہوتے ہیں۔۔یسعیاہ - ۴۹ باب ۶ " تجھ سے میری نجات زمین کے کناروں تک پہنچی" س قبیل ، باب یہ اُس سرزمین کے چاروں کونوں پر آخر آن پہنچا ہے ؟ پادری صاحبان ! اگر زمین کے کناروں کا ہر انسان ہونا اور نزدیک آنا اور حاضر ہونا ممکن ہے۔تو اُن کا گھٹنا کیا نا ممکن ہے۔اصل یہ ہے کہ قرآن مجید کا مطلب تو صاف ہو اور عہد عتیق کے محاورات اُس کی صداقت کی گواہی دے رہے ہیں۔مگر یہ چشم بستہ قوم جس صورت میں اپنی ہی کتابوں سے جاہل ہے۔پھر بھلا قرآن پر غور کرنے کا موقع نہیں کیونکر ملے !