فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 168
اعتراض - أَوَلَمْ يَر دا انا ناتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا - سيارة "۔سورہ رعد رکوع 4- کیا نہیں دیکھتے ہم آتے ہیں زمین کو اُس کے کناروں سے گھٹاتے ہیں۔یہ فلاسفی قرآن کی عجیب ہے۔زمین کناروں سے گھٹتی چلی آتی ہے۔جواب ہر زبان میں یہ محاورہ ہے کہ مکان سے مکان والے مراد ہوتے ہیں۔جسے سنو میں ظرف بمعنی مظروف سے تعبیر کرتے ہیں۔ذری مستی کی انجیل ا بابا اٹھا کر پڑھو۔" ہائے خور زمیں تجھ پر افسوس ہائے بیت صیدا تجھپر افسوس۔کیونکہ یہ معجزے جو تم میں دکھلائے اگر صور و صیدا میں دکھلائے جاتے تو ٹاٹ اوڑھ کے اور خاک میں بیٹھ کے کلب کی توبہ کرتے یا پھر ستی ۲۳ باب ۳۷ دیکھو اسے یروشلم سے یروشلم جو نبیوں کو مار ڈالتا اور انہیں جو تیرے پاس بھیجے گئے سنگسار کرتا ہے۔کتنی بار میں نے چاہا تیرے لڑکوں کو جمع کروں دیکھو منی کی ان آیات میں خور زمیں اور بہت صیدا اور پر تحکم سے اسکے مکین مراد ہیں بولتے ہیں تو مکان بولا گیا ہے پر مقصود مکان والے ہیں۔ایسا ہی قرآن کریم کی اس آیت میں جو اعتراض میں مذکور ہے الارض سے جو معرف بالف لام ہو خاص زمین والے یعنی اہل مکہ مراد ہیں۔مقصود آیت کا یہ ہے کہ باری تعالیٰ سکے کے رؤسا اور شرف کو نصیحت کرتا اور عبرتا ارشاد فرماتا ہے " کیا انہوں نے (اہل مکہ نہیں دیکھا کہ ہم بکنے والوں کے پاس آتے ہیں اور اُن کی طرف کو گھٹاتے چلے آتے ہیں۔اطراف کے معنی سمجھنے کے لئے اُس فقرے پر غور کرنا واجب ہے جو ابو طالب نے وفات کیوقت اپنی آخری اس میچ میں کہا۔وَهُوَ هذا - وَايْمُ الله كَان أنظر إلى صَعَالِيكِ الْعَرَبِ وَأَهْلِ الأَطرَانَ الْمُسْتَضْعَفِينَ اور خدا کی قسم میں دیکھتا ہوں عرب کے غریبوں اور اہل اطراف اور کمزور مِنَ النَّاسِ قَدْ أَجَابُو العُونَة - لوگوں کو کہ محمد کے کہنے کو مان لیا ہے۔لم اے اہل اطراف وہ لوگ جو امیروں کے خدام اور اُن کے حواشی ہیں اور گاؤں کے لوگ ۱۲۔