فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 102 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 102

۱۰۲ ہم اس امر کا قطعی انکار کرتے ہیں کہ اسلام نے کبھی لوگوں کو زبر دستی مسلمان کرنا چاہا ہو۔اسلام نے فقط اپنی ذات کی حفاظت کے لئے تلوار پکڑی اور اسی غرض سے شمشیر بکف رہا۔عیسائیوں کے نزدیک اختلاف مذہب ایک وجہ وجیہ جنگ وجدل کی تھی۔جیسے قوم سیکشن وفرسین کو اور دیگر اقوام جرمنی کو شارمین شاہ جرمنی نے قتل و قمع کیا۔جس وقت سے صوبہ سینز کو اور صوبہ پر تین لاکھاں بندگان خدا تہ تیغ کئے گئے ہیں زمانے سے فرقہ الجنس فرانس میں مقتول و مذبوح ہوا۔اور جسوقت سے اُن خون ریز لڑائیوں میں جو تاریخ یورپ میں جنگہائے سنتی سالہ کے نام سے مشہور ہیں، بڑی بڑی خونریزیابی ہوئیں۔اُس وقت سے اُس زمانے تک جبکہ سکاٹ لینڈ میں پیروان مسلک کا کون نے اور انگلینڈ میں تابعان دین لوتھر نے شد یا ظلم و تعدی کی ایک غیر منقطع سلسله جبر و اکراہ اورتعصب نفسانیت اور غلو بیجا کا امور دینی میں چلا آیا ہے۔جو دین سیمی کے لئے مخصوص ہے۔اور جس سے اسلام بحمد اللہ ہمیشہ بر ہی رہا ہے۔غزوات صلیبی میں ملاحظہ کیجئے مجاہدین عیسائی کا کر دار مسلمانوں کے مقابل میں کیا رہا ایک معتبر مورخ لکھتا ہو کہ جب خلیفہ ثانی امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کہ میں بیت المقدس میں داخل ہوئے۔تو گھوڑے پر سوار سفر ونیوس اسقف اعظم کے ساتھ بیت المقدس کی عمارات قدیم وغیرہ کی باتیں کرتے ہوئے شہر کے اندر چلے گئے اور جب نماز ظہر کا وقت آیا۔تو آپنے اس کلیسائے بزرگ میں نماز پڑھنا پسند نہ کیا جہاں اُس وقت کھڑے تھے۔بلکہ ایک اور کلیسا کے زینے پر فریضہ نماز ظہر ادا کیا۔اور اسقف اعظم سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اگر میں اس کلیسائے بزرگ کے اندر نماز پڑھتا۔تو آئندہ مسلمان اس معاہدے کے خلاف کرتے۔جو ہم سے اور تم سے ہو گیا ہو اور یہ حیلہ کرتے کہ جب خلیفہ نے اس گرجا میں نماز پڑھی ہو تو پھر ہم کوکون مانع ہے۔مگر جب مجاہدین عیسائی نے ے یہ دونوں صوبے جنوبی امریکہ کے ہیں۔یہاں اہل ہسپانیہ نے لاکھ ا ا د میں کو صرف بوجود اختلا در قبال کیا۔