فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 101
1-1 کر کے پھر توڑ ڈالنا بے ایمان سرداران فوج کی رائے پر موقوف تھا۔الغرض دین سیخی نے قومی اخلاق کا کچھ تصفیہ نہ کیا۔اس زمانے کے محققین سیجی نے اس قومی اخلاق کے فقدان کو اپنے دین میں ایک نقص عظیم نہیں قرار دیا ہے۔حالانکہ یہ نقص راس وجہ سے پیدا ہوا تھا۔کہ ان کا دین ناقص اور نا تمام چھوڑ دیا گیا تھا۔مذہب پروٹسٹنٹ نے جب فرض پایا۔تب بھی علمائے مسیحی کی مذہبی تعدی میں کچھ فرق نہ آیا۔ہالم صاحب اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ اس مہذب دین درپروٹسٹنٹ کے مختلف شعبوں اور فرقوں سے اعظم معاصی یہ عصبیت سرزد ہوئی کہ بندگان خدا پر دین میں جبرو اکراہ کرتے ہیں۔اور یہ گناہ ایسا ہے کہ ہر ایک ایماندار آدمی جتنی زیادہ کتب کی سیر کر تا ہے۔اتنی ہی اُسکو اُن سے کدورت اور نفرت ہوتی جاتی ہے۔الغرض عیسائیوں کے جدید فرقوں میں باہم یا کلیسائے روم سے اعتقادات مذہبی میں کیسا ہی اختلاف عظیم ہو۔مگر اس باب خناس میں وہ سب متفق الرائے ہیں۔کہ جو قومیں دین سیمی کے دائرے سے باہر ہیں۔اُن سے کوئی سلسلہ مواجب و حقوق مشترکہ کا قائم رکھنایا کسی قسم کا فرض ان کی نسبت بجالانا حرام مطلق ہے۔بر خلاف دین مسیحی کے یہ بات اسلام کی طبیعت میں داخل نہیں کہ اور اہل نداہر سے کنارہ کشی اختیار کرے۔اور اس زمانہ جاہلیت میں جبکہ نصف دنیا پر اخلاقی اور تمدنی ریکی چھائی ہوئی تھی آنحضرت نے دو اصول تمام بنی آدم کی اور کے تعلیم رائے جنکی قدر سادات اور مذہبوں میں بہت کم کیجاتی تھی۔چنانچہ وہ لائق مورخ ( الم صاحب جس کا قول ہم نے پہلے نقل کیا ہے لکھتا ہے کہ دین اسلام بندگان خدا پر عرض کیا گیا۔گر کبھی ان سے جبڑا نہیں قبول کرایا گیا۔اور جس شخص نے اس دین کو بطیب خاطر قبول کیا۔اُس کو وہی حقوق بخشے گئے جو فاتح قوم کے تھے۔اور اس دین نے مغلوب قوموں کو اُن شہر الطا سر بری کردیا جو ابتدائے خلقت عالم سے پیغمبر اسلام کے زمانے تک ہر ایک فاتح نے م فاتح نے مفتوحین پر قائم کیئے تھے " پیر امر آر پی اور