فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 103
١٠٣ بیت المقدس پر قبضہ پایا تو مسلمین کے اطفال خورد سال کو دیواروں سے ٹکرا کراکر انکے بھیجے پھاڑ ڈالے۔اور جوانوں کو زندہ بھون بھون کر مارا اور بعضوں کے پیٹ چاک کر ڈالے کہ دیکھیں سونا تو نہیں نگل گئے ہیں۔اور یہود کو اُنکے العابد میں بند کر کے زندہ جلا دیا۔اور تقریباً ستر ہزار بندگان خدا کو تہ تیغ بے دریغ کیا۔الغرض اسلام نے اپنے نفس کی حفاظت کیلئے تلوار پکڑی تھی مگر دین سمجھی نے اس غرض سے شمشیر زنی کی کہ آزادئی خیال اور آزادی اعتقاد کو صفحہ کروزگار سے مٹادے۔قسطنطین اعظم نے جب درین سیمی قبول کرلیا تو یہ دین تمام ملک مغربی میں پھیل گیا۔اور اُسوقت سے اس دین کو کسی دشمن کا خوف باقی نہ رہا۔مگر جس ساعت سے اس مذہب کو فروغ ہوا۔اسی ساعت سے اُسکی سچی خاصیت ظاہر ہونے لگی۔یعنے اور ادیان سے نفرت و بیزاری کرنے لگا۔اور جہاں جہاں دین میں شائع ہوا۔وہاں وہاں لوگوں کو اور کسی مذہب پر چلتا ہے ایڈا اٹھائے غیر تمکن ہو گیا۔برخلاف عیسائیوں کے اہل اسلام صرف صلح و عافیت کی ضمانت طلب کرتے تھے۔اور حفظ جان و مال اور مساوات کامل کے عوض میں کچھ برائے نام جزیہ مانگتے تھے۔عیسائیوں نے اس مضمون کے (جہاد) خصوص میں نہایت نفرت انگیز تحریرات دنیا میں پھیلاتے ہیں۔اور نا واقفان تاریخ اور سادہ دلوں کو واہم تزویر میں پھنسانا چاہا ہے۔انہوں نے انجیل کے ایک دو فقیرانہ فقروں کو قرآن کریم کی ملکی تمدنی اخلاقی اور عادت اللہ کے موافق تعلیمات سے مقابلہ کرنے میں نہایت بے رحمی سے بیش بہا وقت ضائع کیا ہے۔اس لیے ضرور ہوا۔کہ ہم غزوات محمد یہ لکھنے سے پہلے توریت شریف کے موافق ٹولیں کہ عادت انہیں اس بارے میں کس طرح پر جاری ہو۔اور باوجود رحیم و کریم ہونے کے ذرا سی اپنے قانون لی خلاف ورزی پر کیسی کیسی سزائیں مثلا لعنت و با بیماری فیشل حرق حرق انسان پر نافذ کے اقل سے یہانتک تنقید الکلام سے اقتباس کیا گیا ہے مفصل دیکھنا ہو تو اصل کتاب مال کے