فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 442 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 442

مام سکتے تھے۔بلکہ غریب ومسکین ہے دست و پا مقنن و مصلح اور قومی د زور آور رعب و داب والے مصلح و متن کے قوانین برابر نہیں ہو سکتے۔پس یہی وجہ ہے کہ یہ شرائع انبیاء میں اور مصلی و محکمان یں کچھ باہم تیر موجود ہے دراصل سب کے ایک ہیں خصوصیات عارضہ میں اختلاف ہے۔ایک ہی قوم میں مختلف اوقات پر مختلف احکام شرعیہ ہوتے رہے۔ہم ذیل میں نظائر بیان کریں گے۔الا عیسائی اسے تکمیل کہتے ہیں۔نسخ نہیں کہتے میں مسلمانوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں حقیقت میں یہ اختلاف تکمیل ہے۔قرآن بھی آخر میں فرماتا ہے۔نعمتی ت کو کیا ضرورہے کہ تیر اور تبدیل ان کو باہمت کی کمی کا کردار یا نیوی کی خدمت میں بھی عرض ہے کہ حسب لغت عرب یا اصطلاح اگر مسلمان ان تغییرات کو فسخ کہیں تو یہ معنی میں ہے۔تم کیوں برا مانتے ہو۔اصل چہارم۔تعجب ہے جب کتب مقدسہ شرعیہ خدا کے افعال و احکام میں بڑا تغیر و تبدیل ہوتا رہا ہے اور عیسائی مقدسوں نے اس تغیر کو ایسے الفاظ سے بیان کیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے نادانی سے پہلا کلمبیا کام کیا۔لا وہاں تاویلیں کرنے کو شروع ہو جاتے ہیں اور قرآن میں ایسا ایک لفظ بھی نہیں۔اور وہاں اعتراض ہائے تعصب تیرا استیا ناس ہوس نو خدا نے انسان کو بنایا اور بڑھایا۔پیدائش ۲ باب اللہ باب پیدائش میں لکھا ہے۔آیت 4 - ا۔تب خداوند زمین پر انسان کے پیدا کر نیسے پتایا اور نہایت دلگیرا ہوا۔پیدائش 4 باب -4- ۲۔تب خداوند نے اس بدی سے جو چاہا تھا کہ اپنے لوگوں سے کرے پچتا یا خروج ۳۲ باب ۱۴- -۳- تو بھی سموئیل ساول کی بابت غم کھاتا رہا۔اور خداوند بھی بیچتا یا کہ اس لئے ساول کو بنی اسرائیل کا بادشاہ کیا۔سیموئیل ۱۵ باب ۳۵ (خدا نے سادل کو سیع کیا پھر وہ مرتد ہو اس لئے بیچتا یا ) بنی اسرائیل پر عذاب نازل ہونے کو تھا۔کہ انہوں نے عاجزی کی۔اس پر کتب مقدسہ میںلکھا ہے ے آج میں پورا دے چکا تم کو دین تمہارا اور پورا کیا میں نے تم پر احسان اپنا ۱۲