فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 441 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 441

والوانهما قاموا الثورية والانجيل وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا كُلُوا مِن فَوْتِهِمْ ر مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ مِنْهُمْ أُمَّةٌ۔مقتصدة دولتير يَا رَكُمْ مِّنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ سیپار 40 - سوسئی مائدہ۔کسی کو ۹۴ دیکھو قرآن نے کس قدر توریت و انجیل کی مدحت سرائی کی ہے۔اور غور کر دغور غوری اور سنو ہاں گیند پھر سنو۔کس قدر یہودی اور عیسائی مذہب والوں کو آزادی دی ہے۔کیسے کردار کر رہی فی الدین کا اظہار کیا ہے۔سوچو یہ سورت مدنی ہے۔کی نہیں اور ان آیات کو منسوخ نہیں کیا۔ہم نے ان آیات کو لکھ کر ثابت کر دیا ہے کہ قرآن نے توریت اور انجیل کو منسوخ نہیں کیا۔بلکہ ہدایت اور نور کہہ کر یہود اور نصاری کو اُن پر مل کی تاکید کی ہے۔بھلا کوئی کر سکتا ہے کہ یہ آیات منسوخ کرنے کو آئی ہیں۔ام سوم۔کچھ شک نہیں کہ حسب اختلاف اوقات اور باختلافت بلاد اور باختلات اقوم مشترکی قانون میں خصوصیات کا لگا نا ضروری ہوتا ہے۔مثلا کپڑا پہنتا تمام بلاد مہذبہ کا ایک ضروری قانون سے مالی موسم گرما اور بلاد گرم کے لئے کسی طرح کا۔اور موسم سرما اور بلاد سرو کے لئے کسی دوسری طرح کا ضروری ہے کیچڑ میں کام کرنے والے مزدور کے لئے ایک قسم کا۔اور بادشاہوں کے لئے جشن میلوس کے دن کے واسطے اور قسم کا۔مصلحان قوم یا مقتننان شروع پر نگاه کر دی جب دنیا میں آدمی تھوڑے جب اُن کی بلاد دور دست میں آمد و رفت کم ہوگی جب لوگوں کی تہذیب ابتدائے سین طفولیت میں تھی اس وقت کے قوانین اور پھر جب کثرت ہوگئی۔باہمی تعلقات بڑھ گئے۔تہذیب کو نشود نما ہونے لگا۔تو اس وقت کے قوانین بیصلح ان قوم یا مقنتان دین برابر بیان کر سکتے اور اُن سے فائدہ پہنچا ے اور اگر وہ قائم یہ کھیں توریت اور انجیل کو اور جو اترا ان کو ان کے رب کی طرف سے تو کھا دیں اپنے اوپر سے اور پاؤں کے پیچھے سے کچھ لوگ ان میں ہیں سید ھے اور بہت ان کے میرے کام کر رہے ہیں۔۱۲ ہ یہ آیت سی پارہ ۳۔سورہ بقر م کو ہم میں ہے۔ترجمہ۔زور نہیں دین کی بات میں۔۱۲