فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 399
كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَة - سيپاره ، سوره انعام رکوع ، حيمَةُ رَبِّكَ صِدْ قَا وَ عَدْ لا، لا مبدل لكلمته : سیمباره سوره انعام رکوع - ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَى وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِه سیپاره ۲۷ سوره ق رکوع ۲ إن الله لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَة سیپاره ۵ سوره نساء رکوع ۶ ان الله لا يُخَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُخَبِرُوا مَا بِأَنفُسِهِم سیپاره ۱۳ سوره رعد رکوع ۲ ومار بكَ بِظَلَّامٍ لَلْعَبِيدِه سیپاره ۲۴ سوره حم سجده رکوع ۶ افَمَن كانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقاء لا يستون ، سیپاره - سوره سجده رکوع ۲ وَمَا يَسْتَوى الاعمى وَالْبَصِيرُ ولا الظُّلُمَاتُ وَلا النُّورُه وَلَا الظل ولا الحرورة - 3 وَمَا يَسْتَوِي الأَحْيَاء وَلَا الْاَمْوَاتُ سیپاره ۲۲ سوره فاطر رکوع ۳ - وَلمَّا ظَلَمْنَهُمْ وَلكِن ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ - سیپاره ۱۲ سوره هود - رکوع ۹ قرآن کا عدل و رحم تو یہ ہو اور بیشک یہ نصاری کے فرضی ذہنی اور سلم عدل ورحم کے خلاف ہے۔جب ہم فطرت انسانی پر اور عادۃ اللہ پر جو اس عالم مشاہدہ میں جاری ہو اور جس سے آئیندہ اور بعد الموت عالم غیب پر ایمان و ایقان لانے کی راہ اور ثبوت ملتا ہے۔بغور نظر کرتے ہیں تو انسانی حالت اور اس کے قومی کی ترکیب اور اسکے فطری تقاضے اور لازمی افعال و اعمال کو ٹھیک اسی رحم و عدل کے مطابق اور بالکل موافق پاتے ہیں جسکی بابت قرآن کریم کی آیتیں خبر دیتی ہیں اور اسی لئے ہم اس مقدس کتاب کو خدا کا کلام کہتے اور اعتقاد کرتے ہیں کہ اے لکھی ہے تمہارے رب نے اپنے اوپر مہر کرنی ۱۲ سے تیرے رب کی بات پوری سچ ہے انصاف کی کوئی بدلنے والا نہیں اس کے کلام کو ۱۲ سال بدلتی نہیں بات میرے پاس در بین ظلم نہیں کرتا بندوں پر ۱۳ ملکه ال حق نہیں رکھتا کسی کا ایک ورسے برابر ہے اللہ نہیں بدلتا ہو ہے کسی قوم کی بیشک وہ نہ بدلیں تو اپنے بچے ہو اور تیر اب ایسا نہیں کہ ظلم کے بندوں پر اک بھلا ایک جو ہے ایمان پر برابر ہے۔اسکے جو بے حکم ہی نہیں برا بر ہوتے اور نہیں باہر اندھا اور دکھتا اور نہ اندھیرا اور نہ اُجالا اور نہ سایہ اور نظیر۔اور برا بر نہیں جیتے نہ مرتے ۱۲۔این ایام من کی ایک ظلم کرگئےاپنی جان پر ہم پر "