فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 400
۴۰۰ خدا کے فعل بینی قانون قدرت کے مطابق ہدایات کرتا ہے۔چونکہ قانون قدرت ٹھیک نمونه شرعی قانون کا ہے یا یوں کہو کہ شرعی قانون ایک مکتوبی صورت اور سچا فوٹو قانون قدرت کا ہے۔اور انسان کو معاملات عقبی اور حالات اُخروی کے فہم کی راہ اسی عالم مشاہدے اور محسوسات کے ذریعے سے گھلی ہو اور خود خدا نے بھی اپنی ذات وصفات کے غیب الغیب اسرار کو اسی عالم کے مجازی محسوسی صورتوں اور تمثیلوں سے مطابق کرکے سمجھایا ہے۔اس لئے ہم کو ضرور ہوا۔اور لازمی طور پر ہم پابند کئے گئے۔کہ ان صفات ( عدل ورحم) کی ملک اس کے فعل یعنی قانون قدرت کو ٹھیرا وہیں کہ وہ قدوس اپنے فعل سے ان موجودات میں کیسا صفاتی نمونہ بتاتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ انسان جتنا معلومہ قوانین قدرت کا اتباع کرتا ہے۔اور اپنی قولے سے اُن کی ترکیب اور فطرت کے اصلی تقاضے کے موافق کام لیتا ہو۔اتنے ہی زیادہ فائدے اور متع اُٹھاتا ہے۔اگر اس کے ثمرات شخصی محنت اور ذاتی ہمت سے حاصل ہونے والے ہیں۔تو شخصی محنت ہی اُن کی تحصیل کرنے والی ہوتی ہے۔اور اگر قومی کوشش اور متفق سعی اُن کے حصول کا سبب ہے۔تو شخصی محنت وہاں کارگر نہیں ہو سکتی ہے۔اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ قانون قدرت کے ان خفی اسباب سے جن کا علم سر دست علی العموم لوگوں کو حاصل نہیں۔ایک انسان کو آرام و راحت محاصل ہو جاتی ہے۔جسے قدرت کے اسرار سے ناآشنا اور کتاب اللہ سے ناواقف لوگ اتفاقی بات کہتے ہیں۔اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی اعمال کے نظرات تدربھالتے ہیں۔اور کبھی نہایت جلد گویا عمل کے تابع اور لازم ہوتے ہیں۔مغرض ہر چیز کا ایک اندازہ اور تقدیر ہے۔جس سے حتما سر مو تفاوت ممکن نہیں۔ایسا ہی حال شرعی قانون کے دعید و و عد یعنی اُخروی آلام و نعما کا ہی۔بحسب مراتب دفعات کوئی فرد بشر ان کے نتائج سے محروم اور غیر محفوظ رہ نہیں سکتا۔اور