فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 390 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 390

پولوس نامہ رومیان 4 باب میں صاف فرماتے ہیں کہ تم فضل کے اختیار میں ہو۔پس تو کیا ہم گناہ کیا کریں۔اس لئے کہ ہمہ شریعت کے اختیار میں نہیں بلکہ فصل کے اختیار میں ہیں۔ایسا نہ ہو۔کیا تم نہیں جانتے کہ جس کی تابعداری میں تم اپنے آپ کو غلام کے مانند سونپتے ہو۔اسی کے غلام ہو جسکی تابعداری کرتے ہو۔خواہ گناہ کی جس کا انجام موت ہے۔خواہ فرمان برداری کی جس کا پھل راستبازی ہے۔بھلا کچھ شک ے کہ درخت اپنے پھلوں سے ہی پہچانا جاتا ہے۔بالکل سچ ہے کہ سچا ایمان اچھے اور نیک اعمال کا باعث ہو اور کفر اقسام بدکاریوں کا شہر انسان کی کمزوریاں کبھی اسے کفر کے باعث فضل کے لینے میں بد نصیب کر کے گناہ کا مرتکب بناتی ہیں۔اور غفلت کی حالت میں شیطان کڑوے بیج ہوتا ہو۔متی ۱۳ باب ۲۵ اس واسطے عادل خدا کی ذات بابرکات نے اس کی تدبیر فرمائی۔ވ حمن زعامت اية أوليك هم المفلحون ، سماره، سوره اعراف رکوع شه وَمَن عَمِلَ صَالِحًا من ذكر أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولئِكَ يَدْخَلُونَ الجَنَّةَ يرزقون فيه ما بغير حساب - سیپاره ۲۲ سوره مؤمن - رکوع ۵- کیا معنی کہ جب ایک انسان بر اور نیک اعمال دونوں قسم کے عملوں کا مرتکب ہوتا ہے۔بر تو معلوم ہوا کہ اس میں ایمان اور اُسکے مد مقابل کے بیج بوئے گئے ہمیں اسلئے میزان کی ضرورت ہوئی۔تاکہ عدل کی صفت پوری ہو۔پس جس کے نیک اعمال بڑھ گئے۔عدل اور رحم اسکا شفیع ہوا۔اور فضل و کرم سے ایسے شخص کا بیڑا پار ہو گیا۔سچی ہے۔بھلے اور چنگے کو طبیب کی ضرورت نہیں۔متی 4 باب ۱۲۔اور جسکے اعمال نیک اور بدھے جملے ہیں۔لے سوجن کی توئیں بھاری پڑیں سو رہی ہیں جن کا بھدا ہوا ۱۲ یں اور جب پینے کی ہے بھلائی۔۔مرد ہو یا عورت اور وہ یقین رکھتا ہو۔سو وہ لوگ بھائیں گے بہشت میں۔روزی یہ ہو۔۔۔پلائیں گے وہاں بے شمار ہو