فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 391 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 391

۳۹۱ تو اس کے لئے بھی رحم اور کرم کا پتہ امید ہے کہ فضل سے بھاری ہو جاوے۔سوال گر شفیع کی ضرورت ہے تو اس کے شرائط اور و بر خصوصیت کیا ہے؟ جواب شفیع کے شرائط وہی جانے سے شفیع بنانا ہو۔یعنی جس کے رحم اور کرم اور فضل نے شفیع بنایا ہو۔الا جہاں یہاں شفاعت کا ثبوت ہے۔وہاں وہاں قرآن نے دو شرائط وہ بتلا دئے ہیں۔غور کرو انبیاء اور ملائکہ کی شفاعت اُسی کے رحم اور فضل سے ہے۔اور اسی کے اذن اور اجازت سے دیکھو۔a ل مَادٌ تُرمُونَ لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ سياره ۱ سورة انبياء - رکوع ۲ - لا يموت إلا لمن ارتضی - سیپاره ۱۰ سوره انبیاء - رکوع -۲ لا يملكُ الذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ الشَّفَاعَةَ إِلا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ يَعْلَمُونَ ، سیپاره ۲۵- سوره زخرت - رکوع ۷ - وَاسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَى وَرَحْمَةٌ وَمِمَّا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَتِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيم - سیپاره ۲۴ سوره مؤمن - رکوع ۱ لے لیکن وہ بندے ہیں جنکو عزت دی ہو اسے بڑھکر نہیں بول سکتے اور وہ اسی کے حکم پر کام کرتے ہیں ۱۲ ہے اور سفارش نہیں کرتے مگر اُس کی جس سے وہ راضی ہو ۱۲ سن اور اختیار نہیں رکھتے جن کو یہ پکارتے ہیں سفارش کا۔مگر جی نے گواہی دی سچی اور انکو شہر تھی ۱۳ اور گناہ بخشہ اتے ہیں ایمان والوں کے اے رب ہمارے ہر چیز سمائی ہے تیری مہر اور غیر میں سو معاف کر اُن کو ہو تو بہ کریں اور چنیں تیری راہ اور بچا اُن کو آگ کی مار سے ۲)