فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 389 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 389

نجات اور فضل اور ایمان کی مثال بعینہ ایسی ہو کہ ایک شخص جسکی آنکھیں تندرست ہیں۔ایک ایسے مکان میں جو بالکل بند ہے۔بیٹھا ہے۔اور کہیں اس مکان میں روشنی آنے کا راستہ نہیں۔اب اس شخص کو ایک نہایت عزیز اور پیارے دوست کا دیدار مطلوب ہے۔اور وہ دوست بھی اس مکان میں موجود ہے۔اور ظاہر ہے کہ روشنی کے بدون اپنے دوست کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا۔اور اس دوست سکھ دیدار تو اس طالب دیدار کے دل اور روح کو کوئی راحت نہیں مل سکتی۔جب تک روشنی نہ آوے۔اور دوست کا چہرہ نہ دکھلا دے۔روشنی لینے کے مختلف ذریعے ہیں۔یا تو اس مکان میں روشندان نکالے یا چراغ وغیرہ سے روشنی لے تو دوست کے دیدار سے وہ دیدار کا طالب آرام پاسکتا ہے۔ایسا ہی دیدار اور دیدار سے آرام تو نجابت ہو۔اور وہ روشتی فصل اور کرم خداوندی پر ایمان ایک روشندان با سراغ پر وافضل کی روشنی کو کھینچتا ہو اور ایمان کو اس روشنی کا جاذب قرآن نے بھی کہا ہے۔الله وين الذين امنوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلمتِ إِلَى النُّور سيارة ٣ - سوره بقر۔رکوع ۲۴ - پس جس قدر مومن کا ایمان بڑھتا ہے۔اسی قدر وہ بڑے فضل کو جذب کرتا ہو اور اسے حاصل کرتا ہو جیسے جس قدر روشندان اور فتیلہ بڑا ہو گا۔اُسی قدر زیادہ روشنی کھینچے گا۔اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ سب ایمان فضل کو بلاتا ہے۔اور فضل سے نجات ہے تو اعمال کیا ہوئے کیا اعمال اخو اور بیکار ہونگے۔تو معلوم ہوا کہ سائل نے ایمان اور اعمال نیک کا تعلق نہیں سوچا۔کیونکہ نیک اعمال اور سچا ایمان ایک وہ سرے کو لازم و ملزوم ہو۔سچا ایمان نیک اعمال کا بیج ہے اور اچھے پیج کا ضرور ہاں۔اچھے بیج کا ضرور اچھا ہی پھل ہوتا ہے۔اے اللہ کام بنانے والا ہے ایمان والوں کا نگا لتا ہے ان کو اندھیروں سے انجانے میں ۱۲