فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 274 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 274

۲۷۴ میسج ظاہر ہوا۔قرآن نے اس پیشینگوئی کو محمد رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی نسبت بیان کیا ہے۔دیکھو۔والتينِ وَالزَّيْتُونِ وَطُورِ سِينِينَ وَهَذَا الْبَادِ الْأَمِينِ۔قسم انجیر کی اور زیتون کی اور طور سینین کی اور اس شہر امن والے کی ۱۲ یہ ان تین مقامات کی خصوصیت نہایت غور کے قابل ہے۔عہد عقیق میں اسی خصیص بعد مفصل مذکور ہوئی تھی۔قرآن کا طرز ہو کہ میں بات کی تفصیل شہد عقیق و جدید میں نہ ہو۔اسکی تفصیل کرتا ہو۔اور جس کا بیان وہاں مفصل ہو۔اسکی طرف مجمل اشارہ کرتا ہے۔اب دیکھو قرآن نے مسیح کے میدائے ظہور کو تین اور زیتون سے تعبیر فرمایا۔اسکی وجہ یہ ہو کہ زیتون کے پہاڑ کے پاس سیح نے ایک گدھے کا بچہ منگوایا۔اور اسکے ذریعے سے اپنی نسبت ایک بڑی پیشینگوئی کو ثابت کیا۔دیکھو لو قا۔باب ۱۹-۳۰ - متی- بالا - 1 ی وجہ مرقس باب 11-1 تین کے درخت کے پاس ایک معجزہ ظاہر کیا۔دیکھو مرقس باب ۱۱- ۱۴۔اور انجیر کا نشان دینے پر ایک شخص ایمان لایا۔یوحنا باب - نش وادی خاران اور دشت فاران کی تفسیر قرآن نے یہ فرمائی ہو کہ فاران سے شہر مکہ مراد ہے۔جہاں سے جیسا بشیر اور مو سے جیسا بشیر و نذیر نکلا۔جسکی شریعت کی نعمت کہا گیا۔اليوم المَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَثْمَتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ نو الْإِسلام دینا۔سیپارہ 4 سوره مائده رکوع - (1) فاران کے پہاڑ سے ایسا ظا ہر ہوا کہ تمام دنیا اس کا وہ مان گئی۔اسکے داہنے ہاتھ میں شریعت روشن ہے۔اُس کا لشکر ملائکہ کا لشکر ہے۔اُسکے سبب خدا جنوب سے آیا۔اُس کی ستائش سے زمین بھر گئی۔موافق اور مخالف نے محمد محمد یا احمد احمد پکارا۔لے آج میں نے پورا کر دیا تمہارے لئے دین کو تمہارے اور پوری کر چکا ئیں اور تمہارے نعمت کو اپنی اور پسند کیا میں نے تمہارے لئے دین اسلام کو ۱۲