فرموداتِ مصلح موعود — Page 47
۴۷ اسلامی عبادات اور مسجد میں پس مساجد صرف ذکر الہی کے لئے ہیں لیکن ذکر الہی ان تمام باتوں پر مشتمل ہے جو انسان کی ملی ، سیاسی علمی اور قومی برتری اور ترقی کے لئے ہوں۔لیکن وہ تمام باتیں جو لڑائی، دنگہ، فساد یا قانون شکنی سے تعلق رکھتی ہوں خواہ ان کا نام ملی رکھ لو یا سیاسی قومی رکھ لو یا دینی ، ان کا مساجد میں کرنا ناجائز ہے۔اسی طرح مساجد میں ذاتی امور کے متعلق باتیں کرنا بھی منع ہے کیونکہ اسلام مسجد کو بیت اللہ قرار دیتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے مخصوص قرار دیتا ہے۔(تفسیر کبیر جلد ششم - تفسیر سوره حج صفحه ۲۹) مساجد کی تین اہم اغراض اوّل مساجد اس لئے بنائی جاتی ہیں کہ مسافران سے فائدہ اُٹھا ئیں۔دوئم۔مساجد اس لئے بنائی جاتی ہیں کہ شہر میں رہنے والے ان سے فائدہ اُٹھا ئیں۔سوئم۔مساجد اس لئے بنائی جاتی ہیں کہ رکوع وجود کرنے والے یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے والے اور تو حید کامل پر قائم لوگ ان سے فائدہ اُٹھا ئیں۔مسافر تو مسجد سے اس رنگ میں فائدہ اُٹھا سکتا ہے کہ اگر اسے کوئی اور ٹھکانہ نہ ملے تو وہ اس میں چند روز قیام کر کے رہائش کی دقتوں سے بچ سکتا ہے اور مقیم اس رنگ میں فائدہ اُٹھا سکتا ہے کہ مسجد شور و شغب سے محفوظ مقام ہوتا ہے وہ اس میں بیٹھ کر اطمینان اور سکون سے دعا ئیں کر سکتا ہے اور اپنے رب سے مناجات کر سکتا ہے اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کر دیتے ہیں ان کا اصل ٹھکا نہ تو مسجد ہی ہوتا ہے کیونکہ مسجد مومنوں کے اجتماع کا مقام ہوتی ہے اور دعاؤں اور ذکر الہی کی جگہ ہوتی ہے۔ایسے مقام سے کوئی سچا عشق اور تعلق رکھنے والا انسان جدا ہی نہیں ہوسکتا مگر یہ امر بھی یا درکھنا چاہئے کہ ذکر الہی کا قائم مقام وہ تمام کام بھی ہیں جو قومی فائدہ کے ہوں خواہ وہ قضاء کے متعلق ہوں یا جھگڑوں اور فسادات کے متعلق ہوں یا تعلیم کے متعلق ہوں یا کسی اور رنگ میں مسلمانوں کی ترقی اور ان کے تنزل