فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 46

۴۶ اسلامی عبادات اور مسجد میں جب اُن کی نماز کا وقت آگیا تو اس قافلہ کے ایک پادری نے کہا کہ اب ہماری عبادت کا وقت ہے۔آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم باہر جا کر نماز ادا کر آئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آپ لوگوں کو باہر جانے کی کیا ضرورت ہے۔ہماری مسجد میں ہی عبادت کر لیں۔( تفسیر جامع البیان المعروف تفسیر طبری لابن جریر طبری جلد ۳ صفحه۱۰۰) یہ تاریخی واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کے نزدیک مسجد کا دروازہ ہر مذہب و ملت کے شرفاء کے لئے کھلا ہے اور وہ اپنے اپنے طریق کے مطابق اس میں عبادت بجالا سکتے ہیں۔اسلام نے امامت کے لئے بھی کسی خاندان یا کسی خاص قوم کی خصوصیت نہیں رکھی۔عیسائیوں میں مقررہ پادری کے سوا کوئی دوسرا آدمی نماز نہیں پڑھا سکتا۔سکھوں میں گرنتھی کے سواد وسر الشخص گرنتھ صاحب کا پاٹھ نہیں کراسکتا۔لیکن اسلام پادریوں اور پنڈتوں کا قائل نہیں وہ ہر نیک انسان کو خدا تعالیٰ کا نمائندہ سمجھتا ہے اور ہر نیک انسان کو نماز میں رہنمائی کا حق دیتا ہے۔( تفسیر کبیر جلد ششم ،سوره حج صفحه ۲۴) مسجد میں دنیاوی باتیں کرنا ہاں مسجد میں خالص ذاتی کاموں کے متعلق باتیں کرنا منع ہے مثلاً اگر تم کسی سے پوچھتے ہو کہ تمہاری بیٹی کی شادی کا کیا فیصلہ ہوا یا کہتے ہو کہ میری ترقی کا جھگڑا ہے افسر نہیں مانتے تو یہ باتیں مسجد میں جائز نہیں ہوں گی سوائے امام کے کہ اس پر تمام قوم کی ذمہ واری ہوتی ہے اور اس کا حق ہے کہ وہ ضرورت محسوس ہونے پر ان امور کے متعلق بھی لوگوں سے باتیں کرے۔بہر حال مسجد میں خالص ذاتی کاموں کے متعلق باتیں کرنا منع ہے مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کسی کی کوئی چیز گم ہو جائے تو وہ اس کے متعلق مسجد میں اعلان نہ کرے۔( صحیح مسلم مع شرح النوری جلد اول صفحه ۲۱۰ مطبوعہ اصح المطابق دہلی)